اس وائرس سے متاثرہ مریض، جس کی موت ہو گئی، لیون کے ایک اسپتال میں سنگین بیماری کا علاج کروا رہا تھا اور اس کا مدافعتی نظام شدید کمزور تھا۔ فرانسیسی حکام کو شبہ ہے کہ مریض مشرقی فرانس میں کاٹنے والے چھوٹے کیڑے (مڈج) کے کاٹنے سے متاثر ہوا، جہاں رواں سال کے آغاز میں مویشیوں میں وائرس کی موجودگی سامنے آئی تھی۔
مریض کے انفیکشن اور موت سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
شیمونڈا وائرس کیا ہے؟
شیمونڈا ایک ایسا وائرس ہے جو کاٹنے والے چھوٹے کیڑوں کے ذریعے پھیلتا ہے اور بنیادی طور پر گائے اور دیگر مویشیوں کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم بھیڑوں، بکریوں، گھوڑوں اور الپاکا میں بھی اس وائرس کے انفیکشن کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ وائرس اسی گروپ سے تعلق رکھتا ہے جس میں شمائلن برگ وائرس شامل ہے، جو مویشیوں میں تولیدی مسائل پیدا کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔
شیمونڈا وائرس پہلی بار 1965 میں نائجیریا میں مویشیوں میں دریافت ہوا تھا۔ اس کے بعد افریقہ اور ایشیا کے مختلف علاقوں میں بھی اس کی موجودگی سامنے آتی رہی ہے۔
یہ وائرس کن علاقوں تک پھیل چکا ہے؟
شیمونڈا وائرس کی یورپ میں پہلی بار جولائی 2026 کے اواخر میں نشاندہی ہوئی۔ 20 اکتوبر تک فرانس، جرمنی، اسپین اور آئرلینڈ سمیت یورپ کے ایک درجن سے زیادہ ممالک میں اس کے کیسز رپورٹ ہو چکے تھے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق امکان ہے کہ یہ وائرس ملک میں موسمِ بہار ہی سے پھیل رہا تھا، تاہم انسانی انفیکشن کا پہلا معلوم کیس بعد میں سامنے آیا۔
یورپ میں وائرس کے پھیلاؤ نے مویشیوں کی صحت پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے، خصوصاً ان ممالک میں جہاں مویشی پالنے کی صنعت بڑے پیمانے پر موجود ہے۔
شیمونڈا وائرس جانوروں کے لیے کتنا خطرناک ہے؟
شیمونڈا وائرس سے متاثرہ جانوروں میں بخار، اسہال اور دودھ کی پیداوار میں کمی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
زیادہ سنگین صورتوں میں جانوروں کا حمل ضائع ہونے اور جنین میں شدید پیدائشی نقائص پیدا ہونے کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔ بعض گھوڑوں میں اعصابی مسائل کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحتِ حیوانات (WOAH) کے مطابق یورپ میں سامنے آنے والی وائرس کی اقسام کے طویل مدتی اثرات ابھی واضح نہیں ہیں۔
وائرس کے پھیلاؤ اور مویشیوں کی آبادی پر اس کے ممکنہ اثرات کا تعین کرنے کے لیے مزید نگرانی اور تحقیق کی ضرورت ہے۔
انسانوں کے لیے اس وائرس سے کتنا خطرہ ہے؟
شیمونڈا وائرس سے انسانی انفیکشن کا پہلا معلوم کیس ایسے مریض میں سامنے آیا جسے پہلے سے ایک سنگین بیماری لاحق تھی اور اس کا مدافعتی نظام شدید کمزور تھا۔
فرانسیسی حکام کے مطابق مریض کو دماغ سے متعلق پیچیدگیاں بھی پیش آئیں، جن کا وائرس سے تعلق ہونے کا قوی امکان ہے۔ تاہم انفیکشن اور موت کی وجوہات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے کہا ہے کہ دستیاب معلومات اور اس گروپ کے قریبی وائرسز کے پھیلاؤ کے طریقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کیس الگ تھلگ معلوم ہوتا ہے اور فی الحال اس کے وسیع پیمانے پر پھیلنے کا امکان کم ہے۔
اس کے باوجود اس واقعے نے انسانی انفیکشن کے ممکنہ اسباب کی تحقیقات اور وائرس کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
شیمونڈا وائرس کی موجودہ صورتِ حال کیا ہے؟
شیمونڈا وائرس فی الحال عالمی ادارۂ صحتِ حیوانات کی بیماریوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ اس لیے ممالک پر ادارے کے مخصوص ضابطوں کے تحت اس وائرس کے کیسز رپورٹ کرنا لازم نہیں۔
یہ وائرس یورپی یونین کے قانون برائے صحتِ حیوانات کے تحت بھی درج نہیں ہے، جس کے باعث اس کے لیے مخصوص لازمی نگرانی کا نظام لاگو نہیں ہوتا۔
اس صورتِ حال کے نتیجے میں دستیاب اعداد و شمار وائرس کے حقیقی پھیلاؤ اور اس کی موجودگی کی مکمل تصویر پیش نہیں کر سکتے۔
ماہرین کے مطابق مزید نگرانی اور تحقیق سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ شیمونڈا وائرس مستقبل میں مویشیوں کے لیے کس حد تک خطرہ بن سکتا ہے اور آیا یہ انسانی صحت کے لیے بھی وسیع تر خطرات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔







