عدالت عالیہ نے سندھ فلم سنسر بورڈ کی جانب سے فلم پر لگائے گئے زیادہ تر کٹس اور اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے بورڈ کو حکم دیا ہے کہ وہ 10 روز کے اندر فلم کی سرٹیفکیشن پر دوبارہ فیصلہ کرے۔
برطانوی پاکستانی فلم ساز سیماب گل کی تحریر اور ہدایت کاری میں بننے والی فلم 'گھوسٹ اسکول' کی کہانی سندھ کے دیہی اور مضافاتی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم اور غیر فعال یا کاغذات تک محدود 'گھوسٹ اسکولوں' (ملازمین کی تنخواہیں جاری ہونے کے باوجود بند رہنے والے اسکولوں) کے حساس موضوع پر مبنی ہے۔
کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ ایک گاؤں کا بااثر طبقہ اور استاد، اسکول کو بند رکھنے کے لیے یہ افواہ پھیلاتے ہیں کہ وہاں بھوتوں اور جنات کا سایہ ہے۔
سندھ سنسر بورڈ نے رواں سال جولائی میں اس فلم کو یہ کہتے ہوئے روک دیا تھا کہ یہ عوامی نمائش کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اگرچہ بورڈ نے باقاعدہ طور پر کوئی تحریری یا قانونی وجہ واضح نہیں کی تھی، تاہم فلمی ناقدین، ماہرینِ تعلیم اور فلم سازوں کا مؤقف تھا کہ فلم میں صوبہ سندھ کے تعلیمی نظام کی خامیوں، افسر شاہی کی کرپشن اور بند اسکولوں کی تلخ حقیقت کو دکھایا گیا ہے، جس کی وجہ سے صوبائی سنسر بورڈ نے اسے ممنوعہ قرار دیا۔
فلم سازوں کے مطابق وفاقی (سینٹرل) اور پنجاب سنسر بورڈز اس فلم کو پہلے ہی بغیر کسی اعتراض کے پاس کر چکے تھے۔
نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فلم ساز جے جے سیماب گل و دیگر کی درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ سنسر بورڈ کے پاس کٹس لگانے یا فلم روکنے کے اختیارات لامحدود نہیں ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگر سندھ سنسر بورڈ دیگر صوبوں اور وفاق سے مختلف فیصلہ کرنا چاہتا تھا، تو اس کے لیے سولیڈ اور معقول قانونی وجوہات پیش کرنا بورڈ کی ذمہ داری تھی، جو کہ نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ فلم 'گھوسٹ اسکول' ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اور ریڈ سی فلم فیسٹیول سمیت کئی عالمی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہے اور یوکے ایشین فلم فیسٹیول میں بہترین ہدایت کاری کا ایوارڈ بھی جیت چکی ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد اب اس فلم کی سندھ کے سینما گھروں میں ریلیز کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔







