اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج کی نشست کا مقصد وزیراعظم سے ملاقات سے پہلے دونوں کمیٹیوں کے درمیان معاملات طے کرنا تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ حکومت اور جماعت اسلامی کی تکنیکی کمیٹیاں آئندہ ایک سے دو روز میں ملاقات کریں گی، جب کہ امید ہے کہ ایک ہفتے کے اندر وزیراعظم کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔
لیاقت بلوچ نے دعویٰ کیا کہ حکومت فی لیٹر پیٹرول پر ٹیکسز کی مد میں 162 روپے اور ڈیزل پر 148 روپے وصول کر رہی ہے، جب کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1,568 ارب روپے حاصل کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پیٹرولیم لیوی کا آپس میں تعلق نہیں، کیونکہ دونوں الگ معاملات ہیں۔ حکومت کو ناگزیر اخراجات کے علاوہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا چاہیے۔
انہوں نے موٹرسائیکلوں اور رکشوں کے لیے حکومتی ریلیف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دیگر گاڑیوں کے مالکان کو بھی ریلیف ملنا چاہیے۔
لیاقت بلوچ نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنے اخراجات اور عیاشیاں ختم کرنے کے لیے تیار نہیں اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں (آئی پی پیز) کے معاملے میں بھی تاخیری حربے اختیار کیے جا رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات محض فوٹوسیشن نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے ٹھوس فیصلے ہونے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ بلال اظہر کیانی، نصراللہ رندھاوا اور فراست شاہ معاملات کا جائزہ لیں گے۔ جماعت اسلامی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان نہیں کر رہی، تاہم احتجاج کا راستہ بھی نہیں چھوڑے گی۔
انہوں نے حکومت پر عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈالنے اور مختلف طریقوں سے ان سے رقم وصول کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کے ساتھ ظلم بند کرے۔







