پی آئی اے کے مطابق نئے یونیفارم کو طویل دورانیے کی پروازوں کے تقاضوں، پائیداری اور عملے کی آرام دہ نقل و حرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ان میں نرم اور ہوا دار کپڑے استعمال کیے گئے ہیں، جب کہ یونیفارم کی سلائی اور ساخت کو بھی عملے کے آرام اور سہولت کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔

نئے یونیفارم جمعرات کو متعارف کرائے گئے۔ ان کا استعمال 31 اکتوبر سے شروع ہوگا، جب پی آئی اے کے نئے حاصل کردہ ڈریم لائنر طیارے کی لندن سے اسلام آباد کے لیے افتتاحی پرواز متوقع ہے۔

پی آئی اے کے نئے یونیفارم کے انتخاب کے لیے کراچی میں ایک خصوصی فیشن شو کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں پاکستان کے معروف ڈیزائنرز نے اپنے تیار کردہ ڈیزائن پیش کیے۔

مقابلے میں ماہین خان، دیپک اینڈ فہد، جنریشن، اسماعیل فرید، منیب نواز، دیپک پروانی، فراز منان، عامر عدنان اور نومی انصاری کے ڈیزائن بھی شامل تھے۔ نومی انصاری کے ڈیزائن گزشتہ 12 برس سے پی آئی اے کے کیبن کریو کے یونیفارم کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔

ڈیزائنز کا جائزہ لینے کے لیے فیشن اور ایوی ایشن کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات پر مشتمل پینل تشکیل دیا گیا تھا، جس میں کھاڑی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو شمعون سلطان، معروف فیشن ڈیزائنر نیلوفر شاہد، اسٹائل ایکسپرٹ نبیلہ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن کی وائس چانسلر حنا طیبہ خلیل اور پی آئی اے سے 33 سالہ وابستگی رکھنے والی نسیم تہرانی شامل تھیں۔

پی آئی اے کے یونیفارم کی تاریخ میں عالمی شہرت یافتہ ڈیزائنرز بھی شامل رہے ہیں۔ 1966 میں فرانسیسی ڈیزائنر پیئر کارڈن نے ایئرلائن کے لیے مخصوص اے لائن ٹیونک اور ہُڈ ڈیزائن کیا تھا، جب کہ 1970 کی دہائی میں برطانوی شاہی خاندان کے لیے ملبوسات تیار کرنے والے سر ہارڈی ایمیز نے بھی پی آئی اے کے فیشن ورثے میں اپنا حصہ ڈالا۔

مزید پڑھیں: ماہرہ خان اور وہاج علی کے ’مٹی دے باوے‘ میں نوجوان ’بالا‘ کا کردار نبھانے والے فضل حسین کون ہیں؟

نئے یونیفارم ڈیزائن کرنے کے حوالے سے حسن شہریار یاسین کا کہنا تھا کہ قومی ایئرلائن کے لیے ملبوسات تیار کرنا پاکستانیوں کے اجتماعی فخر اور مہمان نوازی کے جذبے کی عکاسی کرنے کے مترادف ہے۔

حسن شہریار یاسین کے مطابق ڈیزائن میں پاکستانی ثقافتی ورثے کا احترام کرتے ہوئے جدید فیشن کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ کیبن کریو کے ارکان یونیفارم میں پُراعتماد اور آرام دہ محسوس کریں اور یہ ملبوسات دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر پاکستان کی نمائندگی کریں۔