پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت غلام مصطفیٰ کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع چنیوٹ کا رہائشی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ 20 اکتوبر کو پیش آیا، جب لڑکی مزنگ لنک روڈ سے سکوٹی پر گزر رہی تھی۔ ملزم نے مبینہ طور پر اپنی موٹرسائیکل لڑکی کی سکوٹی کے آگے لاکر اس کا راستہ روکا اور اسے سکوٹی سے گرا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس میں ایک موٹرسائیکل سوار کو لڑکی کی سکوٹی کے سامنے رک کر اسے تشدد کا نشانہ بناتے دیکھا جاسکتا ہے۔ فوٹیج میں ملزم لڑکی کو مارتا اور زمین پر گراتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ شور مچنے پر لوگ موقع پر جمع ہوجاتے ہیں۔
متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں تھانہ مزنگ میں درج مقدمے کے متن کے مطابق ان کی بیٹی 20 اکتوبر کو شام 4 بج کر 45 منٹ پر سکوٹی پر جارہی تھی کہ ایک نامعلوم موٹرسائیکل سوار نے اسے اوورٹیک کیا اور رکنے کو کہا۔
مقدمے کے مطابق لڑکی کے نہ رکنے پر ملزم نے مبینہ طور پر اس کی سکوٹی کو ٹکر ماری اور اپنی موٹرسائیکل آگے لاکر اس کا راستہ روک لیا۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے لڑکی سے موبائل فون اور لیپ ٹاپ چھیننے کی کوشش کی، اسے سکوٹی سے نیچے گرایا، تھپڑ مارے، بال نوچے اور گالم گلوچ کرتے ہوئے ہراساں کیا۔
لڑکی کے والد کے مطابق تشدد کے باعث ان کی بیٹی کے چہرے اور ناک پر زخم آئے، جبکہ اس کا لیپ ٹاپ بھی ٹوٹ گیا، جس کی مالیت 85 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق لڑکی کے شور مچانے پر لوگ موقع پر جمع ہوگئے، جس کے بعد ملزم فرار ہوگیا۔ موقع پر موجود افراد نے ملزم کی موٹرسائیکل قبضے میں لے کر پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس کے مطابق ملزم غلام مصطفیٰ کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والے ملزم کو لاہور پولیس نے رات ہی کو گرفتار کرلیا تھا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خواتین اور بچے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ریڈ لائن ہیں اور ایسا رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔







