ہمارے ساتھ یہ اکثر اور بار بار ہوتا ہے، اگر ایسا آپ کے ساتھ بھی ہورہا ہے تو اسے محض مصروف زندگی، ذہنی دباؤ یا کمزوری سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ بعض اوقات ان علامات کے پیچھے جسم میں آئرن کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔

آئرن یعنی فولاد ایک ضروری معدنی جزو ہے، جو خون میں ہیموگلوبن بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہیموگلوبن خون کے سرخ خلیوں میں موجود وہ پروٹین ہے جو پھیپھڑوں سے آکسیجن جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتا ہے۔

جب جسم میں آئرن کی مقدار کم ہو جائے تو ہیموگلوبن بنانے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں آئرن کی کمی سے ہونے والی خون کی کمی، یعنی آئرن ڈیفیشنسی انیمیا، پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں جسم کو مطلوبہ آکسیجن پہنچانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور تھکاوٹ، کمزوری اور سانس پھولنے جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔

تاہم، ہر وقت تھکاوٹ محسوس ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے جسم میں آئرن کی کمی ہے۔ اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے علامات کے ساتھ طبی معائنے اور ضرورت کے مطابق خون کے ٹیسٹ بھی اہم ہیں۔

آئرن جسم کے لیے کیوں ضروری ہے؟

آئرن صرف خون بنانے میں ہی مدد نہیں دیتا بلکہ جسم کے کئی اہم افعال میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ پٹھوں میں آکسیجن کے استعمال، توانائی پیدا کرنے کے عمل، جسمانی نشوونما اور دماغی افعال کے لیے بھی اہم ہے۔ جب جسم میں آئرن کے ذخائر کم ہونے لگتے ہیں تو بعض افراد میں ہیموگلوبن معمول کی حد میں رہنے کے باوجود بھی آئرن کی کمی موجود ہو سکتی ہے۔

اگر یہ کمی بڑھ جائے اور خون میں ہیموگلوبن بھی کم ہونے لگے تو اسے آئرن کی کمی سے ہونے والی خون کی کمی کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ہیموگلوبن کا ایک ٹیسٹ بعض اوقات ابتدائی آئرن کی کمی کی مکمل تصویر نہیں دکھاتا۔

جسم میں آئرن کی کمی کیوں ہوتی ہے؟

آئرن کی کمی کی ایک وجہ خوراک میں آئرن کی ناکافی مقدار ہے، لیکن یہ واحد وجہ نہیں۔ اس کے پیچھے کئی عوامل ہو سکتے ہیں۔

سب سے پہلے متوازن غذاکا نہ ملنا ہے۔ اگر روزمرہ خوراک میں گوشت، دالیں، پھلیاں، سبز پتوں والی سبزیاں، میوہ جات یا آئرن سے بھرپور دوسری غذائیں مناسب مقدار میں شامل نہ ہوں تو وقت کے ساتھ جسم کے آئرن کے ذخائر کم ہو سکتے ہیں۔

خواتین میں ماہواری کے دوران بہت زیادہ خون بہنا آئرن کی کمی کی ایک اہم وجہ ہے۔ معدے یا آنتوں سے خون بہنا، السر اور بعض دوسری بیماریاں بھی جسم میں آئرن کی کمی پیدا کر سکتی ہیں۔ بعض اوقات خون کا ضیاع واضح طور پر نظر نہیں آتا۔

حمل کے دوران جسم کو ماں اور بچے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ آئرن درکار ہوتا ہے۔ بچوں اور نوعمر افراد میں تیز رفتار نشوونما کے دوران بھی آئرن کی ضرورت بڑھ سکتی ہے۔

بعض بیماریوں، مثلاً سیلیک بیماری یا آنتوں کے بعض مسائل، کی وجہ سے جسم خوراک سے آئرن مناسب مقدار میں جذب نہیں کر پاتا۔ بعض ادویات بھی آئرن کے جذب پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

اس لیے آئرن کی کمی سامنے آنے پر صرف غذا بہتر بنانا کافی نہیں ہوتا؛ یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ کمی پیدا کیوں ہوئی ہے۔

آئرن کی کمی کی علامات کیسے پہچانیں؟

آئرن کی کمی ابتدا میں واضح علامات کے بغیر بھی موجود ہو سکتی ہے۔ جب کمی بڑھنے لگتی ہے تو مسلسل تھکاوٹ، کمزوری یا جسم میں توانائی کی کمی، معمولی جسمانی سرگرمی کے دوران سانس پھولنا، سر درد، چکر آنا یا کھڑے ہوتے وقت ہلکا پن محسوس ہونا اور دل کی دھڑکن تیز یا غیر معمولی محسوس ہونا جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔

ان کے علاوہ جلد کا معمول سے زیادہ پیلا دکھائی دینا، ہاتھوں اور پاؤں کا ٹھنڈا رہنا، توجہ مرکوز کرنے یا سوچنے میں دشواری، بالوں کا زیادہ جھڑنا یا ناخنوں کا کمزور ہونا، زبان میں درد، منہ کے کونوں پر زخم یا برف اور دوسری غیر غذائی چیزیں کھانے کی غیر معمولی خواہش جیسی علامات بھی شامل ہیں۔

ان علامات میں سے کوئی ایک یا کئی علامات آئرن کی کمی میں ظاہر ہو سکتی ہیں، لیکن ان کی موجودگی بذاتِ خود تشخیص نہیں ہے۔ مثال کے طور پر بال جھڑنے، چکر آنے اور تھکاوٹ کی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔

کیسے معلوم ہوگا کہ آئرن کی کمی ہے؟

آئرن کی کمی کی تصدیق کے لیے ڈاکٹر علامات، طبی تاریخ، خوراک اور جسمانی معائنے کے ساتھ خون کے ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔

سی بی سی: یہ ٹیسٹ خون کے مختلف اجزا، خصوصاً ہیموگلوبن اور سرخ خلیوں کی خصوصیات، کا جائزہ لینے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے خون کی کمی کا پتا چل سکتا ہے۔

سیرم فیریٹن: فیریٹن جسم میں آئرن کے ذخائر کا اندازہ لگانے کے لیے اہم ٹیسٹ ہے۔ اس کی کم سطح آئرن کی کمی کی نشاندہی کر سکتی ہے، تاہم سوزش یا بعض بیماریوں میں فیریٹن معمول سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔

دیگر آئرن ٹیسٹ: ضرورت کے مطابق ڈاکٹر سیرم آئرن، ٹرانسفرین سیچوریشن یا ٹی آئی بی سی جیسے ٹیسٹ بھی تجویز کر سکتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ آئرن کی کمی کی ابتدائی حالت میں ہیموگلوبن معمول کے مطابق ہو سکتا ہے، اس لیے صرف ایک ٹیسٹ کی بنیاد پر ہر صورت میں نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے۔

آئرن کی کمی دور کرنے کے لیے کیا کھائیں؟

اگر خوراک میں آئرن کی کمی بھی مسئلے کا حصہ ہو تو روزمرہ غذا میں آئرن سے بھرپور چیزیں شامل کرنا مفید ہو سکتا ہے۔ گوشت اور مچھلی کا زیادہ استعمال کریں، ان میں موجود آئرن عموماً جسم بہتر طور پر جذب کر سکتا ہے۔

مسور، چنے، لوبیا اور دیگر دالیں آئرن کے اچھے ذرائع ہیں۔ پالک اور دوسری سبز سبزیاں آئرن فراہم کرتی ہیں، اگرچہ ان میں موجود آئرن کا جذب گوشت میں موجود آئرن کے مقابلے میں کم ہو سکتا ہے۔ کشمش، خشک خوبانی، تل اور بعض دوسرے بیج بھی خوراک میں آئرن شامل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

لیموں، امرود، مالٹا اور ٹماٹر جیسی غذائیں پودوں سے حاصل ہونے والے آئرن کے جذب کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ چائے اور کافی کھانے کے ساتھ یا فوراً بعد پینے سے آئرن کے جذب میں کمی آ سکتی ہے۔ اس لیے آئرن کی کمی کی صورت میں انہیں کھانے سے الگ وقت پر پینا مفید ہو سکتا ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ صرف غذا ہر مریض میں آئرن کی کمی دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی، خصوصاً جب کمی زیادہ ہو یا مسلسل خون بہنے جیسی بنیادی وجہ موجود ہو۔

کیا آئرن کی گولیاں لینا ضروری ہے؟

اگر ٹیسٹوں سے آئرن کی کمی ثابت ہو جائے تو ڈاکٹر آئرن سپلیمنٹ تجویز کر سکتا ہے۔ اس کا دورانیہ اور مقدار کمی کی شدت، عمر، طبی حالت اور علاج کے ردِعمل کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ بعض افراد میں منہ کے ذریعے دی جانے والی دوا کافی ہوتی ہے، جب کہ مخصوص حالات میں نس کے ذریعے آئرن دینے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔

آئرن کی گولیوں سے متلی، قبض، پیٹ میں تکلیف یا پاخانے کا رنگ گہرا ہونے جیسے مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے خود سے زیادہ مقدار میں آئرن لینا مناسب نہیں؛ جسم میں ضرورت سے زیادہ آئرن بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بچوں کے لیے آئرن کی گولیاں خاص طور پر خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے انہیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھنا چاہیے۔

اگر آئرن کی کمی کی وجہ معدے یا آنتوں سے خون بہنا ہے تو صرف سپلیمنٹ لینا کافی نہیں ہوگا؛ بنیادی وجہ کا علاج بھی ضروری ہے۔

علاج سے جسم کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟

آئرن کی کمی کی درست تشخیص اور مناسب علاج سے تھکاوٹ اور کمزوری میں کمی، جسمانی سرگرمی برداشت کرنے کی صلاحیت میں بہتری اور توجہ مرکوز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر خون کی کمی کی وجہ سے سانس پھولنے یا دل کی دھڑکن تیز ہونے کی علامات پیدا ہو رہی ہوں تو مؤثر علاج سے ان میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ بہتری فوری طور پر ہر شخص میں نہیں آتی۔ جسم میں ہیموگلوبن بہتر ہونے اور آئرن کے ذخائر دوبارہ بھرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ اگر علاج کے باوجود علامات برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے دوبارہ معائنہ کرانا چاہیے تاکہ دوسری وجوہات کا جائزہ لیا جا سکے۔

آئرن کی کمی کو نظر انداز کرنے کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

اگر آئرن کی کمی بڑھ کر خون کی نمایاں کمی میں تبدیل ہو جائے تو روزمرہ کام، پڑھائی، جسمانی کارکردگی اور توجہ متاثر ہو سکتی ہے۔ شدید صورتوں میں دل کو خون میں آکسیجن کی کمی پوری کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے دل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

حمل کے دوران آئرن کی کمی ماں اور بچے دونوں کے لیے پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔اسی لیے مسلسل تھکاوٹ، بار بار چکر آنے یا معمولی سرگرمی پر سانس پھولنے جیسی علامات کو مسلسل نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اگر سینے میں درد، آرام کی حالت میں شدید سانس پھولنا، بے ہوشی یا غیر معمولی طور پر تیز دل کی دھڑکن کے ساتھ شدید کمزوری ہو تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔ پاخانے میں خون یا تارکول جیسا کالا پاخانہ بھی فوری طبی معائنے کا تقاضا کر سکتا ہے۔

ہر وقت تھکاوٹ ہو تو اگلا قدم کیا ہونا چاہیے؟

اگر تھکاوٹ کئی ہفتوں سے جاری ہے، آرام کے باوجود بہتر نہیں ہوتی یا روزمرہ زندگی متاثر کر رہی ہے تو ڈاکٹر سے معائنہ کرائیں۔ آئرن کی کمی کے علاوہ نیند کی خرابی، تھائیرائڈ کے مسائل، وٹامن بی 12 یا دیگر غذائی اجزا کی کمی، انفیکشن اور ذہنی دباؤ بھی تھکاوٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔ علامات کے مطابق ڈاکٹر مزید ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔

صحت مند غذا، مناسب نیند اور متوازن طرزِ زندگی عمومی صحت کے لیے اہم ہیں، لیکن مستقل تھکاوٹ کا حل صرف زیادہ سونے یا وٹامنز اور سپلیمنٹس لینے میں تلاش نہیں کرنا چاہیے۔ اصل وجہ معلوم کرنا اور اس کے مطابق علاج کرنا ہی زیادہ مؤثر راستہ ہے۔

خیال رہے کہ مسلسل تھکاوٹ جسم کی جانب سے ایک اشارہ ہو سکتی ہے، لیکن اس کی وجہ جاننا ضروری ہے۔ آئرن کی کمی ایک قابلِ علاج مسئلہ ہے؛ بروقت تشخیص، مناسب غذا اور ضرورت کے مطابق طبی علاج سے جسمانی توانائی اور روزمرہ کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔