اردن کی سرکاری ٹی وی چینل ’المملکہ‘ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ کرک گورنری کے گاؤں حمود میں واقع ایک چرچ میں پیش آیا، جہاں اس وقت ایک میت کی آخری رسومات کی تقریب جاری تھی۔

رپورٹ کے مطابق دو مسلح ملزمان ایک گاڑی میں چرچ پہنچے اور وہاں موجود مذہبی تقریب کے شرکا پر فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کے بعد سیکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

تقریب میں شریک خالد برقان نے بتایا کہ جنازے میں درجنوں افراد موجود تھے۔ ان کے مطابق ایک حملہ آور کے پاس رائفل جبکہ دوسرے کے پاس پستول تھی، دونوں نے کئی منٹ تک فائرنگ کی۔

اردن کے حکام نے واقعے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

محکمہ پبلک سیکیورٹی اور وزیر مواصلات محمد المومنی کے مطابق سیکیورٹی ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

اردن مشرق وسطیٰ کے نسبتاً پُرامن ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس نوعیت کے پرتشدد واقعات شاذ و نادر ہی رپورٹ ہوتے ہیں۔ ملک میں مسیحی اقلیت بھی آباد ہے اور متعدد تاریخی و مذہبی مقامات موجود ہیں جہاں دنیا بھر سے مسیحی زائرین آتے ہیں۔