وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے پیرس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت امن و امان بحال کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ہنگامی حالت کے امکان کو مسترد نہیں کیا، تاہم فی الحال بعض علاقوں میں مقامی اور جزوی کرفیو نافذ کرنے کو زیادہ مناسب قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیرس بھر میں کرفیو نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

فرانسیسی حکام کے مطابق مظاہروں کے دوران لوٹ مار اور تشدد کے واقعات میں متعدد افراد گرفتار ہوئے اور سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ حکومت نے ہفتے کے روز تقریباً 60 ہزار پولیس اہلکار اور دیگر سکیورٹی اہلکار تعینات کیے تھے، تاہم وزیر داخلہ لارینٹ نونیز نے اعتراف کیا کہ پرتشدد ہجوم کو قابو کرنے کے لیے یہ تعداد بھی ناکافی ثابت ہوئی۔

وزیر اعظم لیکورنو نے ملک میں بدامنی کا ذمہ دار انتہائی بائیں بازو کے گروہوں کو ٹھہرایا اور الزام لگایا کہ بعض عناصر آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلینشوں نے اس الزام پر ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔

فسادات کے باعث کاروباری شعبے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ فرانس کی تجارتی و خوردہ تنظیم کے مطابق ہفتے کے اختتام پر تقریباً 3 ہزار دکانیں متاثر ہوئیں۔ پیرس میں ڈائر سمیت متعدد معروف برانڈز کی دکانوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ مارسیلے میں اولمپک مارسیلے فٹ بال کلب کے سرکاری اسٹور میں لوٹ مار کی اطلاع بھی سامنے آئی۔

صدر ایمانوئل میکرون نے وزیر داخلہ لارینٹ نونیز کا استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے انہیں بدامنی پر قابو پانے اور سکیورٹی و انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے بارے میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ دوسری جانب پیرس، مارسیلے اور لیون کے میئرز نے کہا کہ تشدد کے دوران ان کے شہروں کے بعض حصے غیر محفوظ محسوس ہوئے۔

فرانس میں بدامنی کے پس منظر میں مہنگائی، عوامی خدمات کی خراب صورت حال اور معاشی دباؤ جیسے مسائل بھی زیر بحث ہیں۔ حکومت کے لیے امن و امان کی بحالی کے ساتھ بجٹ اور بڑھتے ہوئے قرضوں سے متعلق چیلنجز سے نمٹنا بھی اہم ہے۔