سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق دونوں شہریوں کو مسجد کے اندر ’نامناسب فعل‘ کے ارتکاب پر سزا دی گئی۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے اقدامات سے مقدس مقام اور وقت کی حرمت پامال ہوئی، تاہم مبینہ فعل کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
دوسری جانب بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ سے وابستہ ایک عہدیدار کے مطابق سعودی عرب میں بنگلہ دیشی مشن کے لیبر ویلفیئر شعبے سے موصول ہونے والی اطلاع میں دونوں پر مسجد کے اندر زنا کے الزام کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس الزام کی مکمل تفصیلات تاحال سرکاری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
سزائے موت کیسے سنائی گئی؟
سعودی حکام کے مطابق دونوں افراد کو ’تعزیر‘ کے تحت سزائے موت سنائی گئی۔ اسلامی فقہ میں تعزیر ایسی سزا کو کہا جاتا ہے جس کی نوعیت اور مقدار کا تعین بعض جرائم میں قاضی کے اختیار پر چھوڑا جاتا ہے۔
سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق اعلیٰ عدالتی سطح پر فیصلے کی توثیق اور شاہی فرمان کے بعد 14 اکتوبر کو سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔
بنگلہ دیش کو کب معلوم ہوا؟
بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں دونوں شہریوں کی سزائے موت کے بارے میں میڈیا رپورٹس سامنے آنے کے بعد علم ہوا۔ بنگلہ دیشی قونصل خانے نے سعودی حکام کو خط لکھ کر الزامات، عدالتی کارروائی اور سزاؤں سے متعلق تفصیلی معلومات طلب کیں۔ بعد ازاں بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے سعودی سفیر سے بھی معاملے پر وضاحت طلب کی۔
بنگلہ دیشی حکام کے مطابق اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مقدمے کے دوران بنگلہ دیشی مشن کو باضابطہ اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ دونوں شہریوں نے قونصلر معاونت طلب کی تھی یا نہیں۔ اس لیے پیشگی اطلاع نہ ملنے کے معاملے کی قانونی حیثیت پر حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید تفصیلات درکار ہیں۔
اس واقعے کی اہمیت کیا ہے؟
سعودی عرب میں 30 لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی شہری رہتے اور کام کرتے ہیں، اس لیے اس واقعے نے بنگلہ دیش میں تشویش پیدا کی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان مذہبی اور معاشی تعلقات بھی مضبوط ہیں، لیکن اس معاملے میں بنگلہ دیشی حکومت اپنے شہریوں کے مقدمے اور سزائے موت سے متعلق معلومات چاہتی ہے۔
یہ واقعہ سعودی عرب میں سزائے موت کے وسیع تر تناظر میں بھی سامنے آیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی عرب میں 2025 کے دوران 356 افراد کو سزائے موت دی گئی۔
خیال رہے کہ موجودہ معاملے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ دونوں بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف عدالتی کارروائی کی مکمل تفصیلات کیا تھیں اور ان کے ملک کو پیشگی اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔ ان سوالات کے جواب سعودی حکام کی جانب سے فراہم کردہ مزید معلومات سے ہی واضح ہوسکیں گے۔







