امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ روس سے متعلق ان کا فیصلہ واضح ہے۔ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا پُرامن حل چاہتے ہیں اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے جس کے نتیجے میں روس مذاکراتی عمل سے الگ ہو جائے۔ ٹرمپ کے مطابق امن کے لیے جاری کوششوں میں ایسے فیصلے اہم ہیں جو بات چیت کے امکانات کو برقرار رکھ سکیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے معاملے میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے، جس میں یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق بات چیت بھی شامل ہے، روسی برآمدات پر بعض پابندیوں اور ٹیرف میں نرمی کا فیصلہ بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد روس کو مذاکرات میں شریک رکھنا اور جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ عمل راستہ تلاش کرنا ہے۔
امریکی صدر نے روس اور ایران کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اس وقت تہران کی مدد بہت محدود پیمانے پر کر رہا ہے یا شاید بالکل نہیں کر رہا، حالانکہ وہ اس سے زیادہ مدد فراہم کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ صورتِ حال برقرار رہے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو اس میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے یوکرین کی جانب سے روسی ڈیزل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے پر بھی تنقید کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو معلوم ہے کہ ان حملوں سے عالمی ڈیزل مارکیٹ متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات امریکا سمیت دیگر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں، ایندھن کی رسد اور قیمتوں میں تبدیلی سے کسانوں، مویشی پالنے والوں اور مختلف کاروباری شعبوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق روس اس کے باوجود عالمی منڈی میں بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے زیلنسکی پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے مطلوبہ سنجیدگی نہیں دکھا رہے۔ ٹرمپ نے یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فراہم کی جانے والی مالی امداد اور سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی معاونت پر بھی تنقید کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ترجیح روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانا ہے اور وہ اس مقصد کے لیے مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم، ان کے بیان میں کسی حتمی امن معاہدے یا جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ مذاکرات میں پیش رفت سے متعلق ان کے دعوے کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایک ’عظیم جنگجو وزیراعظم‘ اور امن کا شراکت دار قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں اسرائیلی وزیراعظم کے تعاون کو بھی سراہا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ ایک جانب روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں اور دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادی اسرائیل کی قیادت کی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔







