دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اگلے سال میں امریکا کے ہر بچے کو اسپیس ایکس میں ایک شیئر دوں گا۔
ایلون مسک نے مزید کہا کہ یہ کئی اقدامات میں سے پہلا اقدام ہوگا، تاہم انہوں نے اس منصوبے کی تفصیلات نہیں بتائیں اور یہ بھی واضح نہیں کیا کہ امریکا میں بچوں کو اسپیس ایکس کے شیئرز کس طریقہ کار کے تحت فراہم کیے جائیں گے۔
امریکی مردم شماری بیورو کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد تقریباً 7 کروڑ 30 لاکھ ہے۔ اس حساب سے اگر ایلون مسک کا اعلان عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اسپیس ایکس کے کروڑوں شیئرز بچوں میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔
فوربز کے مطابق اسپیس ایکس میں ایلون مسک کی ملکیت تقریباً 38 فیصد ہے۔
ایلون مسک کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں سیاسی اور معاشی سطح پر بھی عوام کو مالی فوائد دینے سے متعلق مختلف اعلانات کیے جا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ وعدہ کیا تھا کہ اگر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ان کی ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو وہ ہر امریکی بالغ شہری کو 5 ہزار ڈالر دینے کی کوشش کریں گے۔
دوسری جانب اسپیس ایکس نے رواں سال جون میں 85.7 ارب ڈالر حاصل کیے تھے، جسے اسٹاک مارکیٹ میں کمپنی کی تاریخ کی سب سے بڑی ابتدائی پیشکش (آئی پی او) قرار دیا گیا۔
اسپیس ایکس کا سٹار شپ میگا راکٹ بھی حالیہ عرصے میں اہم پیش رفت کرچکا ہے۔ ستمبر میں سٹار شپ پہلی مرتبہ مدار تک پہنچا، جسے ایلون مسک کے مریخ پر انسانوں کو بھیجنے کے منصوبے کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔
تاہم ایلون مسک کی جانب سے امریکا کے ہر بچے کو اسپیس ایکس کا ایک شیئر دینے کے اعلان پر ابھی یہ واضح نہیں کہ شیئرز کی تقسیم کب، کس طریقہ کار سے اور کن قانونی و مالی شرائط کے تحت کی جائے گی۔







