ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو تنقید کا نشانہ بنایا، صدر میکرون نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی تھی اور اب فرانس میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عباس عراقچی کے مطابق فرانسیسی صدر نے امریکی اقدامات کی حمایت کرکے موجودہ حالات کی بنیاد رکھی، اس لیے اب خود کو بری الذمہ قرار دینے یا دوسرے فریقوں کو موردِ الزام ٹھہرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے میکرون پر زور دیا کہ وہ فرانس میں جاری عوامی احتجاج کے پس منظر کو سمجھیں اور عوامی مطالبات پر توجہ دیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ فرانسیسی شہری ملک میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان مطالبات میں آزادیِ اجتماع کے حق کی ضمانت بھی شامل ہے۔ عراقچی کے مطابق صدر میکرون کو چاہیے کہ وہ عوامی آواز کو سنجیدگی سے لیں اور فرانس کے مستقبل کے حوالے سے شہریوں کی رائے کو اہمیت دیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس میں احتجاج کی وجوہات اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات پر بحث جاری ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس میں مظاہروں کے تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث ایندھن کی بلند قیمتوں کا ذکر کیا تھا۔ اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے عراقچی نے فرانسیسی صدر کی پالیسیوں اور امریکی اقدامات کی حمایت پر سوالات اٹھائے۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ جیل سے بچنے کے لیے امریکا کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ الزام ایرانی وزیر خارجہ کے مؤقف کا حصہ ہے؛ اس حوالے سے فراہم کردہ معلومات میں اس دعوے کی مزید آزادانہ تصدیق شامل نہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران فرانس میں جاری احتجاج اور ایندھن کی قیمتوں سے متعلق بحث کو امریکا اور اسرائیل کی مشرقِ وسطیٰ پالیسیوں سے جوڑ رہا ہے۔ دوسری جانب فرانس میں مظاہروں کے اسباب اور حکومتی پالیسیوں کے بارے میں مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔

عباس عراقچی نے فرانسیسی صدر پر زور دیا کہ وہ دوسروں پر ذمہ داری ڈالنے کے بجائے فرانسیسی عوام کی آواز سنیں اور ملک کے مستقبل سے متعلق ان کے مطالبات پر توجہ دیں۔