فیصل کریم کنڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا کو صاف ستھرا بنانے کا عزم کرلیا ہے اور اس سلسلے میں صفائی ستھرائی اور تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا آغاز پشاور سے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس مہم میں کسی کی سفارش یا دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا اور کارروائیوں کے دوران بلاامتیاز اصولوں پر عمل کیا جائے گا۔

گورنر کے پی نے گندم کے معاملے پر بھی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے حصے کی گندم کہاں گئی اور اسے کس طرح غائب کیا گیا، اس حوالے سے حقائق سامنے لائے جائیں گے، اس معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے اور تحقیقاتی رپورٹ جلد جاری کی جائے گی، تاکہ ذمہ داری کا تعین کیا جاسکے۔

ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ آئندہ ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی جو عوام کے لیے حقیقی طور پر مفید ہوں، ماضی میں بعض ترقیاتی کاموں میں متعدد محکموں کی جانب سے بل بنانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور ایسے منصوبوں پر رقم خرچ نہیں کی جائے گی جن سے عوام کو خاطرخواہ فائدہ نہ پہنچے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ سرکاری فنڈز کے استعمال میں جواب دہی ضروری ہے اور کسی کو بھی عوام کے پیسے کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ترقیاتی منصوبوں کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں گے تاکہ محدود وسائل کو عوامی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

ٹریفک کے نظام میں بہتری کے حوالے سے فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ اس معاملے پر اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور نظام کو مؤثر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا، ٹریفک کی نگرانی کے لیے کیمروں کے استعمال سمیت جدید طریقہ کار اپنانے پر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو بہتر بنانے سے خلاف ورزیوں اور چالان سے متعلق شکایات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر بات کرتے ہوئے گورنر کے پی نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے واپڈا حکام کے ساتھ بیٹھیں گے، بجلی کی فراہمی میں درپیش مشکلات پر بات چیت کی جائے گی اور بجلی چوری کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کو بجلی کے بل ادا کرنے چاہییں اور بجلی کی تقسیم و فراہمی سے متعلق معاملات کو مؤثر انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے امید ظاہر کی کہ بجلی اور گیس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے کیے جائیں گے، عوام کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے وفاقی اداروں کے ساتھ تعاون اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

گورنر خیبرپختونخوا نے وفاق کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ اب الزام تراشی اور اختلافات کے بجائے تعاون کو فروغ دیا جائے گا، تمام صوبوں کو قومی ترقی کے لیے ایک پیج پر آنا چاہیے اور وفاق و صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کے ذریعے عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

فیصل کریم کنڈی کے مطابق صوبے میں انتظامی بہتری، ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، ٹریفک کے نظام کی اصلاح اور توانائی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون بڑھا کر عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے گی۔