امریکی ٹی وی چینل این بی سی کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین روس کے تیز رفتار بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگانے اور ممکنہ حملوں سے خبردار رہنے کے لیے امریکی انٹیلی جنس پر انحصار کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم یوکرینی حکام کے مطابق بعض روسی حملے پیشگی انتباہ کے بغیر ہوئے۔
زیلنسکی نے امریکا کی روس سے متعلق پالیسیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی ڈیزل کی درآمد سے متعلق معاہدوں اور روس پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی جیسے اقدامات یوکرین کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹرمپ یوکرین کے اتحادی رہیں گے اور ایسے فیصلوں پر نظرثانی کریں گے جو کیف کے لیے مشکلات بڑھا سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یوکرین کو امریکا کی جانب سے ایسی مدد مل رہی ہے جو روس کو فراہم نہیں کی جارہی۔
انہوں نے انٹیلی جنس کے تبادلے اور دیگر ممالک کے ذریعے یوکرین کو امریکی اسلحے کی فراہمی کا حوالہ دیا۔ تاہم، جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکا یوکرین کو اتحادی سمجھتا ہے تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ جنگ کا خاتمہ مذاکراتی تصفیے کے ذریعے ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: یوکرین تنازع بالآخر حل ہو جائے گا اور امریکا اس سلسلے میں بھرپور کوششیں کر رہا ہے، ٹرمپ
ادھر زیلنسکی نے بتایا کہ وہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تاکہ امن مذاکرات کے اگلے مراحل پر پیش رفت کی جاسکے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان مسلسل رابطہ جاری ہے اور فلوریڈا میں ہونے والی ملاقات کے نتائج پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔







