ترکیہ کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاشار گولر، قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمان بن حسن الثانی، انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع یوسف جوہاری اور پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف شامل تھے۔ تقریب میں ترکیہ کے ادارۂ دفاعی صنعت کے سربراہ ہالوک گورگن نے بھی شرکت کی۔
ترک وزارتِ دفاع کے مطابق ’بدر‘ نامی اس معاہدے کے تحت چاروں ممالک کے درمیان فوجی سازوسامان کی تیاری میں تعاون، عسکری صلاحیتوں میں اضافہ، فوجی تربیت، تحقیق و ترقی کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دیا جائے گا۔
اس معاہدے پر دستخط ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے کے دیگر ممالک بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کے نام سے ایک دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے، جو 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے ’مکہ معاہدے‘ کے تحت قائم اسٹریٹجک دفاعی کمیٹی کا ہیڈکوارٹر سعودی دارالحکومت ریاض میں موجود ہے، جب کہ پاکستان فوج کے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو اس اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
ترک حکومت نے اس معاہدے کی باقاعدہ توثیق کا بل بھی پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے، جس کے بعد اس معاہدے کا مسودہ بھی سامنے آگیا ہے۔
معاہدے کی پہلی شق کے مطابق تینوں ممالک اپنی علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات ختم کرنے کے لیے تمام ضروری ذرائع استعمال کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس معاہدے کی دوسری شق نیٹو کے ’آرٹیکل 5‘ سے مماثلت رکھتی ہے، جس کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ یا فوجی جارحیت کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترک میڈیا پر شائع ہونے والے مکہ معاہدے کے مسودے کے مطابق معاہدے کی تیسری، چوتھی، پانچویں اور چھٹی شق میں دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، رسد کی فراہمی، مشترکہ فوجی تربیت اور دہشت گردی کی تمام اقسام کے خلاف عملی سطح پر تعاون کی تفصیلات شامل ہیں۔
مسودے میں جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ تحقیق، ترقی اور جدت کے منصوبوں کے ساتھ فوجی تیاری برقرار رکھنے سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔
معاہدے کے تحت ایک دفاعی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ، دوسرے ممالک کو بھی معاہدے میں شامل ہونے کی اجازت دینے کا طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے۔ کسی نئے ملک کی شمولیت کے لیے تینوں بانی ممالک کی منظوری ضروری ہوگی۔
مسودے کے مطابق یہ اتحاد مستقل نوعیت کا ہوگا اور کوئی بھی فریق ابتدائی 10 سال تک معاہدے سے الگ نہیں ہوسکے گا۔ کسی بھی ملک کو معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے کم از کم تین ماہ قبل تحریری نوٹس دینا ہوگا۔
ترک میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی میں مکہ معاہدے کی توثیق کے بل پر رواں ہفتے بحث متوقع ہے۔







