تفصیلات کے مطابق پی سی بی کی اجازت کے بعد امام الحق پریذیڈنٹس ٹرافی کے آخری راؤنڈ میں او جی ڈی سی ایل کی نمائندگی کریں گے۔ وہ پیر سے لاہور کے این سی سی اے گراؤنڈ میں غنی گلاس کے خلاف میچ کے لیے دستیاب ہوں گے۔
او جی ڈی سی ایل نے بھی امام الحق کی دستیابی کی تصدیق کردی ہے، جبکہ پی سی بی نے ٹیم کو ان کی اجازت سے آگاہ کردیا ہے۔
امام الحق پریذیڈنٹس ٹرافی کے ابتدائی پانچ راؤنڈز میں دستیاب نہیں تھے۔ وہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی تحقیقات کے باعث ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کرسکے تھے۔
دوسری جانب پی سی بی اور محمد رضوان کے درمیان معاملات بہتر ہونے کے بعد انہیں بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت کی اجازت مل گئی ہے۔
محمد رضوان 19 اکتوبر سے شروع ہونے والے پریذیڈنٹس ٹرافی کے ساتویں اور آخری راؤنڈ میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی قیادت کریں گے۔
ایس این جی پی ایل کے ڈائریکٹر کرکٹ اور ہیڈ کوچ محمد حفیظ نے رضوان کی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پی سی بی کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک اسامہ شیرون نیازی کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ ای میل موصول ہوچکی ہے۔
چار روزہ میچ راولپنڈی کے شعیب اختر کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں ایس این جی پی ایل کا مقابلہ خان ریسرچ لیبارٹریز سے ہوگا۔ رضوان رواں سیزن میں پہلی مرتبہ پریذیڈنٹس ٹرافی میں حصہ لیں گے۔
یاد رہے کہ 34 سالہ محمد رضوان ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں اگست 2026 میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد پی سی بی نے ہنگامی بنیادوں پر وطن واپس بلا لیا تھا۔
دورہ انگلینڈ کے بعد رضوان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت بھی زیر بحث رہی۔ ابتدائی طور پر انہیں پری سیزن فٹنس ٹیسٹ میں شرکت نہ کرنے کے باعث پریذیڈنٹس ٹرافی میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جب کہ بعد میں این سی سی آئی اے کی تحقیقات بھی ان کی عدم دستیابی کی ایک وجہ سامنے آئی۔
محمد رضوان پاکستان واپسی کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سامنے دو مرتبہ پیش ہوچکے ہیں۔ ادارہ پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق معاملات کی تحقیقات کر رہا ہے۔
لاہور میں این سی سی آئی اے کے دفتر میں پہلی پیشی کے بعد رضوان نے تحقیقات کی نوعیت کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور اپنا موبائل فون واپس کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی۔
دوسری جانب امام الحق بھی این سی سی آئی اے کی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کا موبائل فون تاحال ادارے کی تحویل میں ہے۔ امام الحق نے اس معاملے پر قانونی کارروائی نہیں کی۔
محمد رضوان کی واپسی ایس این جی پی ایل کے لیے بھی اہم قرار دی جارہی ہے، جو پریذیڈنٹس ٹرافی میں تنزلی کے خطرے سے دوچار ہے۔ گزشتہ سیزن کی رنرز اپ ٹیم آٹھ ٹیموں پر مشتمل پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر ہے۔ ایس این جی پی ایل نے چھ میچز کھیلے ہیں، جن میں پانچ ڈرا ہوئے جبکہ ایک میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
آخری راؤنڈ میں ایس این جی پی ایل کا مقابلہ پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر موجود خان ریسرچ لیبارٹریز سے ہوگا۔
محمد رضوان آئندہ ماہ شروع ہونے والی قائداعظم ٹرافی میں پشاور کی نمائندگی بھی کریں گے۔ وہ پریذیڈنٹس ٹرافی کے آخری راؤنڈ میں ایس این جی پی ایل کی قیادت کے بعد قائداعظم ٹرافی میں پشاور کی جانب سے کھیلیں گے۔
محمد رضوان پاکستان کی جانب سے اب تک 47 ٹیسٹ، 103 ون ڈے انٹرنیشنل اور 106 ٹی20 انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔ وہ قومی ٹیم کے سابق ٹیسٹ کپتان ہونے کے ساتھ ساتھ وکٹ کیپر بیٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔







