متحدہ طلبہ محاذ پاکستان کے زیرِ اہتمام اور اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی میزبانی میں مرکزی سیکرٹریٹ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان، اچھرہ لاہور میں حقوقِ طلبہ کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت متحدہ طلبہ محاذ کے مرکزی صدر رانا عثمان نے کی۔
کانفرنس میں مختلف طلبہ تنظیموں کے قائدین اور ذمہ داران نے شرکت کی۔ اجلاس میں طلبہ کے مسائل اور طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے ملک گیر تحریک شروع کرنے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
تمام طلبہ تنظیموں کے قائدین نے سیاسی نظریات سے بالاتر ہو کر طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے قومی سطح پر مشترکہ جدوجہد کرنے اور مل کر آگے بڑھنے کا اعلان کیا۔
کانفرنس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کے حوالے سے تمام طلبہ تنظیمیں متحد ہیں۔ طلبہ یونینز کی بحالی، تعلیمی مسائل کے حل اور تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ حکومت اس دن سے ڈرے جب طلبہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے وفاقی دارالحکومت کا رخ کریں گے۔ طلبہ یونینز بحال کی جائیں اور بڑی جامعات میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر طلبہ یونینز کے انتخابات کرانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام طلبہ تنظیموں کا اصولی مؤقف ہے کہ طلبہ یونینز بحال ہونی چاہییں۔ تعلیم کے فروغ اور طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ طلبہ کی آواز سنے بغیر تعلیمی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ اس مقصد کے لیے نیشنل اسٹوڈنٹس ڈائیلاگ منعقد کیا جائے گا، جس میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا جائے گا۔
میڈیا کو بھی اس حوالے سے اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دنیا کے مختلف ممالک میں طلبہ یونینز فعال ہیں تو پاکستان میں ان پر پابندی کیوں برقرار ہے؟ انہوں نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) کے بجٹ میں 300 فیصد اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ طلبہ محاذ طلبہ کے تعلیمی مسائل اجاگر کرنے کے لیے ضلعی سطح پر مذاکرے اور مکالمے منعقد کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جدوجہد کا مقصد کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنا نہیں، بلکہ طلبہ کے حقوق کا تحفظ، تعلیمی مسائل کا حل اور طلبہ یونینز کی بحالی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ طلبہ کے حقوق کے لیے جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر صوبائی اسمبلیوں کے سامنے دھرنے بھی دیے جائیں گے۔ قائدین نے کہا کہ تعلیم کو تجارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، جس کے باعث طلبہ کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔
کانفرنس میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ن) کے جنرل سیکرٹری یاسر عباسی، انجمن طلبہ اسلام شمالی پنجاب کے ناظم محمد احسن کبیر، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نائب صدر حیدر ثقفی، مسلم اسٹوڈنٹس لیگ کے ترجمان حبیب انور، مصطفوی اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل اسامہ مشتاق، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حاشر منہاس اور نیشنل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے آرگنائزر بلال لاشاری سمیت دیگر طلبہ تنظیموں کے ذمہ داران شریک ہوئے۔
مطالبات نہ مانے گئے تو سڑکوں پر نکلیں گے، طلباء رہنماء
مرکزی صدر متحدہ طلبہ محاذ رانا محمد عثمان نے ’پاکستان میٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام 13 طلبہ تنظمیں طلبہ حقوق کی تحریک کے لیے باہر نکلیں گی، جمعیت نے اہم ایشو کو اٹھایا ہے، مطالبات نہ مانے گئے تو سڑکوں پر نکلیں گے۔
مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ن) کے جنرل سیکرٹری یاسر عباسی نے کہا ہے کہ طلبہ کے کاز کے لیے ہم سب تنظیموں کے ساتھ ہیں، ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ایم ایس ایف کے تمام کارکنوں کو سی ایم ہاؤس کے باہر دھرنا دینا پڑا تو دیں گے۔
مصطفوی اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل اسامہ مشتاق نے ’پاکستان میٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے ہم سب ایک ہیں، جو مطالبات طے کیے گئے ہیں ان کو منوانے کے لیے ہم ہر سطح پر جانے کے لیے تیار ہیں۔







