محسن نقوی نے لائبہ کے والد کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کیا جائے گا، رقم کی ریکوری کی کوشش کی جائے گی اور جعل سازی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہ معاملہ حکام کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔

محسن نقوی کے مطابق مبینہ نوسرباز نے خود کو وفاقی آئینی عدالت کا اکاؤنٹنٹ ظاہر کیا اور لائبہ کے والد کو ایک جعلی کارڈ بھی دکھایا۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پارٹ ٹائم کنسلٹنسی کا کام کرتا ہے اور امریکا میں مقیم اس کی ایک رشتہ دار خاتون لائبہ کو اسپانسر کرے گی۔

حکام کے مطابق اس معاملے میں ایک خاتون کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ محسن نقوی نے بتایا کہ مبینہ ملزم کے خاندان کے افراد کے نام بھی اسٹاپ لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔

اہلِ خانہ کے مطابق جمعے کو تقریباً ساڑھے 12 بجے مبینہ نوسرباز نے لائبہ کو فون کرکے مزید 20 لاکھ روپے دینے کا مطالبہ کیا۔ اس نے مبینہ طور پر کہا کہ باقی رقم جلد ادا کی جائے تاکہ امریکی سفارت خانے میں انٹرویو کی تاریخ حاصل کی جا سکے۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ لائبہ ساڑھے 12 بجے کے بعد گھر سے نکلی، جب کہ انہیں سہ پہر 3 سے 4 بجے کے درمیان اس کی موت کا علم ہوا۔ خاندان کے مطابق ملزم ان کے فون کا جواب نہیں دیتا تھا اور اس نے لائبہ کو براہِ راست فون کرکے بلایا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اور ایف آئی اے کو معاملے سے متعلق شواہد مل گئے ہیں، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات اور ذمہ داروں کا تعین تحقیقات کے بعد ہوگا۔

اہلِ خانہ اور سامنے آنے والی معلومات کے مطابق لائبہ نے اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کی تھی اور لیکچر بھی دیتی تھی۔ وہ گزشتہ ایک سال سے اسلام آباد کے سیکٹر جی 11 میں ٹیوشن پڑھا رہی تھی۔

مزید پڑھیں: اسناد کی تصدیق کے نام پر فراڈ؛ایچ ای سی نے انتباہ جاری کردیا

پولیس کے مطابق 20 سالہ لائبہ کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 میں اتوار بازار کے قریب ایک گرین بیلٹ سے ملی تھی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور موت کی حتمی وجوہات سے متعلق حکام کی کارروائی مکمل ہونا باقی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد اور چیف کمشنر کو مبینہ فراڈ میں ملوث شخص کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعظم نے نوجوان طالبہ کی موت کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ذمہ دار کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

ایف آئی اے نے بھی اہلِ خانہ سے رابطہ کرکے مبینہ فراڈ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ دوسری جانب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ترجمان کے مطابق لائبہ نے چند سال قبل بی ایس فزکس مکمل کر لیا تھا اور واقعے کے وقت وہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم نہیں تھیں۔