روئٹرز کے مطابق جمعرات کو پیش آنے والے اس افسوس ناک واقعے میں کم از کم33 طلبہ اور دو خاتون ٹیچر جان سے گئے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق جاں بحق بچوں اور خاتون ٹیچر کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں، جبکہ حادثے میں زخمی ہونے والے 40 بچوں کو بھی طبی امداد کے لیے لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچایا گیا۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق اسکول کی چھت گرنے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کردی گئیں۔ واقعہ پشاور کی دیر کالونی میں پیش آیا، جہاں ریسکیو اہلکاروں نے پہنچتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ ایمبولینسوں اور ڈیزاسٹر رسپانس گاڑیوں کو بھی موقع پر پہنچایا گیا تاکہ ملبے میں پھنسے بچوں اور دیگر افراد کو نکال کر اسپتال منتقل کیا جاسکے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ابتدائی کارروائی کے دوران ملبے سے متعدد افراد کو نکالا گیا اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال پہنچایا گیا۔ حادثے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ متاثرہ خاندان اپنے بچوں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے جائے وقوعہ اور اسپتال پہنچ گئے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں 33 بچے اور دو خاتون ٹیچر شامل ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ زخمی بچوں کو اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ حادثے میں متاثر ہونے والے بچوں کی عمریں 13 سال تک بتائی گئی ہیں۔
واقعے کی سنگینی کے پیش نظر لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تاکہ زخمی بچوں کو فوری طبی سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ اسپتال کے عملے کو متاثرہ بچوں کے علاج اور ضروری طبی امداد کی فراہمی کے لیے متحرک کیا گیا۔

اس افسوس ناک حادثے نے اسکولوں کی عمارتوں کی مضبوطی اور طلبہ کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ تاہم چھت گرنے کی حتمی وجہ، عمارت کی تعمیراتی حالت اور ممکنہ غفلت سے متعلق تفصیلات سامنے آنے کے لیے متعلقہ حکام کی تحقیقات ضروری ہوں گی۔
پشاور میں پیش آنے والے اس سانحے میں کمسن بچوں کی ہلاکت پر متاثرہ خاندانوں کو شدید صدمے کا سامنا ہے۔ حادثے کے بعد زخمیوں کی صحت یابی اور واقعے کی وجوہات کا تعین اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے بچوں اور خاتون ٹیچر کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی دردناک سانحہ ہے، انہوں نے زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کی۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے حادثے میں 29 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اس المناک حادثے میں بچوں اور خاتون ٹیچر کی شہادت پر انہیں دلی رنج و غم ہے۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق بچوں کے والدین اور دیگر اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور زخمی بچوں کو جلد صحت یاب کرے۔
حافظ نعیم الرحمان نے جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کی مقامی قیادت کو ہدایت کی کہ وہ فوری امدادی سرگرمیوں کے ساتھ متاثرہ بچوں کے اہلِ خانہ سے رابطہ کریں، ان کی ضروریات کا جائزہ لیں اور علاج معالجے سمیت ہر ممکن امداد اور تعاون فراہم کریں۔
دوسری جانب آئی جی پی ذوالفقار حمید نے سی سی پی او پشاور کو امدادی کارروائیوں کی خود نگرانی کرنے اور ملبے تلے دبے افراد کو فوری اور محفوظ طریقے سے نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پولیس کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز کے مطابق آئی جی پی نے چیف ٹریفک آفیسر پشاور کو ایمبولینسوں کی بلا تعطل آمدورفت کے لیے گرین کوریڈور قائم کرنے اور اسپتالوں کی جانب جانے والے راستوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے، ایس ایس پی آپریشنز اور پولیس ریسکیو ٹیموں کو بھی جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔
آئی جی پی نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمی بچوں اور اساتذہ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔







