وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ملتان میں گاڑی تلے کچل کر جاں بحق ہونے والے 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کے واقعے سے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اس معاملے کو خود دیکھ رہی ہیں اور انصاف یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عظمیٰ بخاری کے مطابق وسیم عباس کا تعلق مظفرگڑھ سے تھا۔ اس کے والد کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا، جس کے بعد اس کی والدہ نے دوسری شادی کرلی۔ وسیم سمیت تین بہن بھائیوں کو دارالخدا نامی یتیم خانے میں داخل کرایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی بہن چھ ماہ قبل یتیم خانے سے والدہ کے پاس منتقل ہوگئی، جبکہ ایک بھائی اب بھی وہیں مقیم ہے۔ وسیم گزشتہ چھ سال سے اسی یتیم خانے میں رہ رہا تھا، جہاں تقریباً 140 بچے موجود ہیں۔

بیان کے مطابق وسیم کو واقعے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل الیکٹریکل کام سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار توقیر کے حوالے کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ 19 اکتوبر کو کام کی جگہ پر بدسلوکی کے بعد وسیم وہاں سے بھاگ نکلا، جس پر ٹھیکیدار توقیر اور اس کے ساتھی امجد نے گاڑی میں اس کا تعاقب کیا اور تقریباً ایک کلومیٹر بعد اسے گاڑی تلے کچل دیا۔

عظمیٰ بخاری کے مطابق مرکزی ملزم توقیر کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی ہے، جب کہ دوسرے ملزم امجد کی گرفتاری کے لیے فیصل آباد میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

واقعے کا مقدمہ نمبر 990/2026 تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ ملزم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھی دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایس پی کینٹ خدیجہ نے مظفرگڑھ میں مقتول کے خاندان سے ملاقات کی اور انہیں ہر ممکن مدد اور مالی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت بچوں کے تحفظ، یتیموں کی مالی معاونت اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اس واقعے میں بھی انصاف یقینی بنایا جائے گا۔