ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کی گلی میں ایک کم عمر لڑکا اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔ پیچھے سے آنے والی گاڑی اس کا تعاقب کر رہی تھی۔ وسیم عباس، جس کی عمر محض 15 سال تھی، خوف زدہ تھا اور مبینہ طور پر لوگوں کو بتا رہا تھا کہ اسے مارنے کے لیے گاڑی میں اس کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ چند لمحوں بعد گاڑی نے اسے ٹکر مار دی۔ وہ اچھل کر قریبی گھر کے گیٹ سے جا ٹکرایا اور شدید زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا۔ اس کی زندگی وہیں ختم ہوگئی۔

وسیم ایک یتیم بچہ تھا۔ اس کے والد دنیا میں نہیں تھے اور وہ ایک این جی او کے زیرِ انتظام یتیم خانے میں رہتا تھا۔ پولیس کے مطابق اسے تقریباً سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار توقیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔ جس جگہ اسے ہنر سیکھ کر اپنے مستقبل کی بنیاد رکھنی تھی، وہیں پیش آنے والے ایک افسوس ناک واقعے نے اس کی زندگی چھین لی۔

پولیس کی مدعیت میں تھانہ ڈی ایچ اے ملتان میں درج مقدمے کے مطابق وسیم مبینہ تشدد سے بچنے کے لیے وہاں سے بھاگا تھا۔ ایف آئی آر میں درج بیان کے مطابق ایک شخص نے پولیس کو بتایا کہ اس کا 15 سالہ ماموں زاد بھائی ملزمان کے پاس کام کرتا تھا اور اسے خدشہ تھا کہ وہ اسے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اسی دوران گاڑی کے ذریعے اس کا تعاقب کیا گیا اور مبینہ طور پر اسے کچل دیا گیا۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں لڑکے کو گاڑی اپنی جانب آتے دیکھ کر بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج میں گاڑی کو اس کا پیچھا کرتے اور پھر اسے ٹکر مارتے دیکھا گیا ہے۔ ٹکر کے بعد وسیم قریبی گھر کے گیٹ سے جا ٹکرایا اور زمین پر گر گیا۔ پولیس کے مطابق اسے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے مداخلت کی، انہوں نے مبینہ طور پر گاڑی چلانے والے شخص کو قابو کیا، پولیس کو اطلاع دی اور مقدمے کے اندراج کے لیے تھانے بھی گئے۔ ایسے واقعات میں شہریوں کی بروقت اطلاع اور تعاون تفتیش کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کے بعد گاڑی چلانے والے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ دوسرا ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، ابتدائی تفتیش میں مقتول لڑکے پر چوری کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا، واقعے کے تمام پہلوؤں، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ملزمان کے کردار کی تحقیقات جاری ہیں۔

وسیم کے قتل کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ صارفین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے۔ بعض صارفین نے اس واقعے کو معاشرے میں کمزور اور بے سہارا بچوں کے تحفظ سے جڑے سنگین سوالات کے طور پر بھی دیکھا۔

وسیم کی میت اس کے چچا اور ماموں مظفرگڑھ لے گئے، جہاں اسے سپردِ خاک کر دیا گیا۔ یتیم خانے کے ایک منتظم کے مطابق بچے کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی اور رات گئے اس کی نمازِ جنازہ ادا کرکے تدفین کردی گئی۔

وسیم عباس کی کہانی صرف ایک المناک موت کی خبر نہیں، بلکہ ان بچوں کے تحفظ کا سوال بھی ہے جو تعلیم اور ہنر سیکھ کر اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک 15 سالہ بچے کی جان چلی گئی، اور اب اہم سوال یہ ہے کہ تفتیش کے ذریعے واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جائے، ذمہ داری کا تعین ہو اور انصاف قانونی طریقے سے یقینی بنایا جائے۔