یہی سوال اب خیبرپختونخوا میں ایک بڑے سیاسی تنازع کی وجہ بن گئے ہیں۔ اس کہانی کا مرکز ہے محمد خیل کاپر منصوبہ، جو شمالی وزیرستان میں واقع ہے۔

یہاں زمین کھود کر تانبا نکالا جاتا ہے، پھر ایک پلانٹ میں اسے مزید پراسیس کیا جاتا ہے۔  اس منصوبے کی نگرانی ڈیگن ایکسپلوریشن ورکس نامی کمپنی کرتی ہے، جو ایف ڈبلیو او کی ذیلی کمپنی ہے۔

ایف ڈبلیو او پاکستان میں سڑکوں اور تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے ادارے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ منصوبہ 2019 سے کام کر رہا ہے اور اس کے پلانٹ میں روزانہ 1500 ٹن معدنیات پراسیس کرنے کی صلاحیت ہے۔

جب یہاں سے اتنا تانبا نکل رہا ہے تو اس کی کمائی کہاں جا رہی ہے؟ اس منصوبے کو 2016 میں 20 سال کے لیے  مائینگ کی اجازت دی گئی تھی۔

اگلے سال حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا، جس میں طے کیا گیا کہ منصوبے سے ہونے والے منافع کا حصہ کیسے تقسیم ہوگا۔  معاہدے کے مطابق کمپنی کو 50 فیصد، سرکاری محکمے کو 10 فیصد، مقامی فلاحی کاموں کے فنڈ کو 22 فیصد اور ایک قومی کمیشن کو 18 فیصد حصہ ملنا تھا۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2016 سے 2024 کے دوران اس منصوبے سے تقریباً 9 لاکھ 53 ہزار ٹن معدنیات نکالی گئیں۔

اسی عرصے میں رائلٹی، زمین کے کرائے اور دوسرے سرکاری واجبات کی مد میں تقریباً 19 کروڑ روپے وصول ہوئے۔  رائلٹی سے مراد وہ رقم ہے جو کان سے معدنیات نکالنے کے بدلے حکومت کو ادا کی جاتی ہے۔

لیکن یہاں اختلاف شروع ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے سابق وزیر معدنیات عارف احمدزئی کہتے ہیں کہ صوبے کو اس کے وسائل سے ہونے والی آمدن کا پورا فائدہ نہیں مل رہا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما نثار باز خان نے بھی دعویٰ کیا کہ محمد خیل منصوبے سے صوبے کو ملنے والی رقم اور اس کے اصل حق میں بڑا فرق ہے۔ ان کے مطابق پانچ فیصد رائلٹی کے حساب سے تقریباً 34 ارب 50 کروڑ روپے بنتے ہیں

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف ان الزامات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف ڈبلیو او کو شمالی وزیرستان میں صرف ایک مائینگ  کا لائسنس دیا گیا تھا۔ خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنسوں کی تعداد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران تیزی سے بڑھی اور اب مجموعی طور پر 4 ہزار 917 لائسنس جاری ہو چکے ہیں۔

اب اس معاملے کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی بڑھتے ہوئے شدت پسند حملوں کی وجہ سے لگائی گئی۔ لیکن جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت بعض سیاست دانوں کا الزام ہے کہ معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا بھی اس فیصلے کے پیچھے ایک وجہ ہو سکتی ہے۔