شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی موت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کے درمیان شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے ان کی نئی تصاویر جاری کردی ہیں۔تصاویر میں کم جونگ اُن کو اپنی اہلیہ ری سول جو اور بیٹی کم جو اے کے ہمراہ پیانگ یانگ میں قومی ملبوسات اور جوتوں کی نمائش کا دورہ کرتے دکھایا گیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ دورہ 19 اکتوبر کو ہوا، جب کہ تصاویر 20 اکتوبر کو سامنے آئیں۔ یہ تصاویر ان دعوؤں کے برعکس ہیں جن میں ان کی موت یا شدید بیماری کا الزام لگایا گیا تھا، تاہم تصاویر کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
کم جونگ اُن کون ہیں؟
کم جونگ اُن شمالی کوریا کے سربراہ اور ملک کی حکمران جماعت ورکرز پارٹی کے رہنما ہیں۔ وہ اپنے والد کم جونگ اِل کی دسمبر 2011 میں وفات کے بعد اقتدار میں آئے۔ ان کی حکومت جوہری ہتھیاروں کے پروگرام، میزائل تجربات اور امریکا و جنوبی کوریا کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باعث عالمی توجہ کا مرکز رہتی ہے۔
شمالی کوریا میں میڈیا اور معلومات تک آزادانہ رسائی محدود ہے۔ اس لیے ملک کی قیادت کی صحت یا سیاسی صورتِ حال سے متعلق خبروں کی آزاد ذرائع سے تصدیق کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔ یہی ماحول افواہوں کو پھیلنے کا موقع دیتا ہے۔

موت کا دعویٰ کس نے کیا اور کیا کہا؟
انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کی 20 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں مقیم چینی حکومت کے ناقد اور چائنا ڈیموکریسی پارٹی سے وابستہ وانجن ژی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کم جونگ اُن کی موت سے متعلق دعوے پھیلائے۔
ان پوسٹس میں الزام لگایا گیا کہ شمالی کوریا کے رہنما کو دماغی شریان پھٹنے کے بعد کوما میں منتقل کیا گیا، ان کے علاج کے لیے چینی ڈاکٹروں کی ٹیم شمالی کوریا پہنچی اور بعد ازاں انہیں ہنگامی علاج کے لیے بیجنگ لے جایا گیا، جہاں ان کی موت ہوگئی۔
ان دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کی موت کی خبر خفیہ رکھی جارہی ہے، ان کی بہن کم یو جونگ نے اقتدار سنبھال لیا ہے اور چین نے ممکنہ سیاسی بحران سے نمٹنے کے لیے پیانگ یانگ میں 9 ہزار فوجی بھیجے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان الزامات کے حق میں قابلِ تصدیق طبی ریکارڈ، شناخت شدہ عینی شاہدین یا دیگر آزاد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
شمالی کوریا کے میڈیا نے تازہ تصاویر میں کیا دکھایا؟
کم جونگ اُن کی موت کی افواہوں کے بعد شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) نے ان کی ایک عوامی تقریب میں شرکت کی تصاویر جاری کیں۔
ان تصاویر میں وہ قومی ملبوسات اور جوتوں کی نمائش میں مختلف مصنوعات کا جائزہ لیتے نظر آتے ہیں۔ بعض تصاویر میں ان کی اہلیہ ری سول جو اور بیٹی کم جو اے بھی موجود ہیں۔
یہ تصاویر موت یا کوما کے دعوؤں کے مقابلے میں اہم ہیں، کیونکہ سرکاری میڈیا انہیں ایک عوامی سرگرمی میں شریک دکھا رہا ہے۔ تاہم شمالی کوریا کے حکام نے ان افواہوں پر الگ سے واضح بیان جاری نہیں کیا اور تصاویر کی تاریخ اور ان میں دکھائے گئے واقعے کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔
اس لیے خبر کو یوں بیان کرنا زیادہ درست ہے کہ سرکاری میڈیا نے کم جونگ اُن کی تازہ تصاویر جاری کی ہیں، نہ کہ یہ کہ ہر دعوے کی آزادانہ طور پر مکمل تردید ہوگئی ہے۔

کیا ایسا پہلے بھی ہوچکا ہے؟
جی ہاں۔ اپریل 2020 میں کم جونگ اُن کی صحت سے متعلق اسی نوعیت کی افواہیں پھیلی تھیں۔ ایک اہم سرکاری تقریب میں ان کی عدم موجودگی کے بعد بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ دل کے آپریشن کے بعد ان کی حالت تشویش ناک ہے، جب کہ سوشل میڈیا پر ان کی موت کی خبریں بھی گردش کرنے لگیں۔
بعد ازاں مئی 2020 میں شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے انہیں ایک تقریب میں شرکت کرتے ہوئے دکھایا، جس سے ان کی موت سے متعلق اس وقت کے دعوے غلط ثابت ہوئے۔ حالیہ افواہوں اور نئی تصاویر نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ بند سیاسی نظاموں سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات کو کس طرح پرکھا جائے۔
موجودہ حقیقت کیا ہے؟
20 اکتوبر 2026 تک سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کم جونگ اُن کی ایسی تصاویر جاری کی ہیں جن میں انہیں 19 اکتوبر کو ایک نمائش کا دورہ کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس کے برعکس ان کی موت، دماغی شریان پھٹنے، کوما اور چین منتقلی سے متعلق دعوؤں کے لیے کوئی قابلِ اعتماد آزاد ثبوت سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ سرکاری میڈیا کی جانب سے تصاویر جاری ہونا اور ان تصاویر کی آزادانہ تصدیق ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ تصاویر کو کم جونگ اُن کی موجودگی کا سرکاری دعویٰ سمجھا جا سکتا ہے، مگر ان کی تاریخ اور اصل صورتِ حال کی مکمل آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
اس لیے موجودہ شواہد کی بنیاد پر ان کی موت کی خبر کو غیر مصدقہ قرار دینا درست ہے، جب کہ تصاویر کی صداقت کے بارے میں قطعی فیصلہ کرنے میں احتیاط ضروری ہے۔
کم جونگ اُن کی موت سے متعلق سوشل میڈیا دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوئی، جب کہ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے ان کی نئی تصاویر جاری کی ہیں۔ دستیاب شواہد موت کے دعوے کی تائید نہیں کرتے، لیکن وائرل افواہوں کو مکمل طور پر جانچنے کے لیے آزادانہ تصدیق اب بھی اہم ہے۔







