لائیو

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا ’صدارتی فرمان منظور‘

اظہر تھراج
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا ’صدارتی فرمان منظور‘4 اکتوبر، 2026

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمان کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے منظوری کے لیے تحریک پیش کی۔ تحریک کے حق میں 214 ووٹ آئے جبکہ 56 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ اس طرح تحریک کثرتِ رائے سے منظور ہوگئی۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے احتجاج بھی کیا۔ اس سے قبل بدھ کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ہنگامہ خیز اجلاسوں میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے سے متعلق قراردادیں بھی کثرتِ رائے سے منظور کی گئی تھیں۔

  • واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں اہم معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے بعد 4 اکتوبر کو لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کیا تھا، قافلہ کرک سے ہوتا ہوا پیر کے روز کوہاٹ پہنچا۔

  • ابتدائی منصوبے کے مطابق 6 اکتوبر کو قافلے نے کوہاٹ سے پشاور، 7 اکتوبر کو بادابیر سے چارسدہ کی جانب روانہ ہونا تھا جبکہ خیبر ضلع کے شرکا کو بادابیر میں قافلے میں شامل ہونا تھا۔ نئے روٹ کے تحت اب خیبر ضلع کو پشاور سے پہلے شامل کرلیا گیا ہے۔

  • پی ٹی آئی کے مطابق لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا بڑا قافلہ 8 اکتوبر کو خیرباد میں جمع ہوگا، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی نے پیر کے روز حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار رہنے کے بعد اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں!

تازہ اپڈیٹس

  1. خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، صدارتی فرمان ایوان میں پیش


    خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کے معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہوگیا، جس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کر رہے ہیں۔ اجلاس میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمان ایوان میں پیش کردیے گئے، جنہیں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا آغاز اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس کی کارروائی شروع ہونے پر پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوس ناک واقعے کا ذکر کیا گیا، جس میں بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ ایوان میں حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا، جبکہ جاں بحق بچوں کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا اور فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

    اس کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دونوں فرمان ایوان کے سامنے رکھے۔ اجلاس میں ان فرمانوں کی پیشی کے بعد صوبے میں آئینی اور انتظامی اقدامات کی توثیق کا معاملہ کارروائی کا حصہ بن گیا۔

    خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے کو سیاسی اور آئینی اعتبار سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کا تعلق صوبے کے انتظامی نظام، امن و امان اور وفاقی و صوبائی اختیارات سے ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدارتی فرمان پیش کیے جانے کے بعد ان کی توثیق کے حوالے سے ایوان کی کارروائی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

    اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کر رہے ہیں، جبکہ حکومتی جانب سے پارلیمانی امور کے وزیر نے متعلقہ فرمان پیش کیے، تاہم فراہم کردہ تفصیلات میں فرمانوں پر بحث، ارکان کی تقاریر یا توثیق کے حتمی فیصلے کی مزید تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی کے دوران ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمانوں پر آئندہ پیش رفت اہم ہوگی۔ ان اقدامات کی آئینی حیثیت، نفاذ کے طریقہ کار اور پارلیمانی توثیق سے متعلق حتمی صورت حال کا تعین ایوان کی کارروائی اور سرکاری اعلامیے سے ہوگا۔

  2. خیبر پختونخوا میں امن کا قیام ریاست کا عزم ہے، فیصل کریم کنڈی

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ریاست صوبے میں امن کا قیام یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے، جب کہ دہشت گردی کے خلاف پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار بڑھائی جائے گی۔

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبے میں تعلیم، صحت، انصاف سمیت دیگر شعبوں میں شفافیت لائی جائے گی اور قانون شکنی کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ریاست نوجوانوں کو بندوق کے بجائے قلم اور کتاب دے گی، جب کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کو امن کا گہوارہ بنایا جائے۔

  3. پی ٹی آئی دہشت گردی کیخلاف وفاق کیساتھ ہونےکی بات کرے تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں: رانا ثناء اللہ

    وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ایمرجنسی سے متعلق معاملہ اب ڈیڈ اینڈ کی طرف بڑھتا جارہا ہے، جب اس پر سوچا گیا تو وزیراعظم اور صدر نے ایک آپشن مذاکرات کا دیکھا۔

     حکومت نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی اور مذاکرات شروع ہوئے، جب بات نہیں بن سکی تو دوسری بار وزیراعظم نے لانگ مارچ ختم کرنے پر مذاکرات کی آفر کی، مذاکرات کا آپشن قابل عمل نہیں رہتا تو دوسرا آپشن تو پھر وہی ہے۔

    رانا ثنا بولے ایمرجنسی کا ان کے اسلام آباد کی طرف آنے یا نہ آنے کی بنیادی وجہ نہیں، پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ دہشتگردی کے خلاف وفاق کے ساتھ ہونے کی بات کریں تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں،   پی ٹی آئی اس کمٹمنٹ پر نہیں آتی تو لانگ مارچ اسلام آباد تک رکھیں نہ رکھیں فرق نہیں پڑے گا۔  سہیل آفریدی نے تین چار دن میں ایک سے زائد بار کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔

    وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں واضح پالیسی ہے کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہیں، غلط فہمی ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آئی ڈی پیز ہوں گے ایسا کوئی پلان نہیں، وادی تیراہ میں مقامی طور پر حالات ایسے تھے وہاں یہ عمل ہوا تو مقامی لوگوں اور صوبائی حکومت سے مشاورت ہوئی تھی۔

    رانا ثنا نے کہا ایمرجنسی لگانے سے یہ مراد نہیں کہ ان اضلاع کو خالی کرایا جائے، ایمرجنسی کے تحت وفاق اختیارات لے گا، بہت سارے متاثرہ اضلاع میں تھانے نہیں، فورسز علاقےکلیئر کردے تو ہولڈ تو سول انتظامیہ نے کرنا ہے۔


  4. اسپیکر قومی اسمبلی مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں، علی محمد خان

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ انہوں نے مذاکرات کی بحالی کے لیے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق سے جمعے کی صبح رابطہ کیا ہے تاکہ کسی ممکنہ کشیدگی یا نقصان سے پہلے بات چیت کا راستہ نکالا جا سکے۔

    علی محمد خان کا کہنا تھا کہ آج پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکر سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست کی کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر کہیں کوئی تعطل یا تناؤ کی صورتحال ہے تو نقصان ہونے سے پہلے بات چیت ہو جانی چاہیے، یہ بہتر ہوگا۔

    پی ٹی آئی رہنما نے اپنی جماعت کو پُرامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کسی کو بھی کوئی تکلیف پہنچے، ہم پُرامن لوگ ہیں۔

    واضح رہے کہ تاحال قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دفتر کی جانب سے اس رابطے یا ملاقات کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے اسپیکر کی جانب سے کوئی عملی پیش رفت کی گئی ہے یا نہیں۔

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی یہ کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سیاسی تناؤ کم کرنے اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان مذاکراتی نشستیں ہو چکی ہیں۔

  5. ہر شخص اسلام آباد جانا چاہتا ہے، ہمارے جمہوری مطالبات ماننا پڑیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کرک میں جیل چوک میں لانگ مارچ شرکا سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر دہشتگردی ایک منصوبے کے تحت مسلط کی گئی ، ایک دفعہ پھر خون بہہ رہا ہے، ہم بےگھر اور کاروبار تباہ ہو رہے ہیں۔

     ایک کارندہ ٹی وی پر بیٹھ کر کہتا ہےکہ میں ناسمجھ ہوں، اپنےعوام کے ساتھ کھڑا ہونا ناسمجھی ہےتو میں یہ ناسمجھی بار بار کروں گا۔

    سہیل آفریدی نے کہا غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہو رہا ہے، جس حکومت کا آپ حصہ ہیں وہ 5300 ارب روپےکی کرپشن کرچکی ہے، اگر  آپ کیلئے یہ سمجھداری ہے تو میں ایسی سمجھداری پر لعنت بھیجتا ہوں۔

     اگر ملک سے محبت ناسمجھی ہے تو میں یہ نا سمجھی بار بار کروں گا، جنہیں مسلط کیا گیا ہے وہ ملک میں تعصب پیدا کرنا چاہتے ہیں،  حالات ان کےقابو سے باہر نکل گئے ہیں،  جنہیں دوبارہ آباد کیا گیا وہ بھی ان کےقابو سے باہر ہوگئے ہیں، خیبرپختونخوا حکومت کو غلط پالیسی کا حصہ بننے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔

    وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نےکہاکہ میں بانی پی ٹی آئی کا کھلاڑی ہوں، میں نے ایبسلوٹلی ناٹ کہا ہے، بند کمروں کےفیصلہ سازوں نےملک پر ایک پارٹی مسلط کی ہے، اس پارٹی کی وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ مجھے بھارت سے نہیں تین صوبوں سےخطرہ ہے، سہیل آفریدی

    سہیل آفریدی نے کہا پورے ملک میں اس سسٹم کے خلاف نفرت دیکھ رہا ہوں، خیبر سے کراچی تک ہر شخص اسلام آباد جانا چاہتا ہے، ہمارے جمہوری مطالبات ماننا پڑیں گے۔


  6. حکومت نے مذاکرات میں سنجیدگی نہیں دکھائی، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رہے گا: بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا اسلام آباد لانگ مارچ جاری ہے اور اسے ملتوی نہیں کیا جا رہا، جب کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھانے کے باعث حتمی ڈرافٹ پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

    سوات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات میں مخلصانہ کوششیں کیں، تاہم حکومت نے کسی ایک تجویز پر بھی رضامندی ظاہر نہیں کی۔ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ مذاکرات جنگوں میں بھی ہوتے ہیں، اگر حکومت مذاکرات کے معاملے میں مخلص ہے تو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔ پی ٹی آئی کے مطالبات سادہ ہیں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، ان کے اہل خانہ سے ملاقات اور ان کے طبی و قانونی معاملات پر پیش رفت چاہتے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رہے گا اور اسے روکا یا ملتوی نہیں کیا جا رہا۔ پی ٹی آئی پرامن ہے اور پرامن احتجاج کرنا اس کا آئینی حق ہے۔ لانگ مارچ کے لیے جو راستہ دیا جائے گا، کارکن اسی راستے سے آگے بڑھیں گے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کو احتجاج کرنے والوں پر گولی نہیں چلانی چاہیے، تاہم کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس رکھتی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متفقہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ بیانیہ اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی تجویز دی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے ذریعے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے سیاسی اور انتظامی سطح پر مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت سے خیبر پختونخوا میں مبینہ مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کسی اور کے احکامات پر عمل کریں گے تو صوبے میں امن کیسے قائم ہوگا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے ڈپٹی کمشنرز بھی مبینہ طور پر کسی اور کے کہنے پر دفعہ 144 نافذ کر رہے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ غیر آئینی اقدامات سے ملک کو مزید سیاسی بحران کی طرف دھکیلا جائے گا۔ گورنر راج نافذ کیے بغیر ہی خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کے اختیارات میں مداخلت کی جا رہی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ تحریک انصاف خیبر پختونخوا حکومت نہیں چھوڑ رہی اور نہ ہی صوبائی اسمبلی تحلیل کرے گی۔ اگر کوئی غیر آئینی اقدام کیا گیا تو پی ٹی آئی کے سینیٹرز، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان پارلیمانی بائیکاٹ پر مجبور ہوجائیں گے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات میں پانچ اہم نکات پر بات ہوئی، لیکن حکومت کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ اب بھی وقت ہے، حکومت آگے بڑھے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات سے ہی نکالا جا سکتا ہے اور غیر آئینی اقدامات سے ملک مزید بحران کا شکار ہوگا۔

  7. سلمان اکرم نے محسن نقوی کا سہیل آفریدی پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام مسترد کردیا

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کے 5 اضلاع میں 72 گھنٹوں کے اندر ایمرجنسی نافذ کرنے کی بات کی گئی تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے واضح کردیا تھا کہ صوبے میں ایمرجنسی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور مذاکراتی ٹیم کے مؤقف میں اس معاملے پر کوئی اختلاف نہیں تھا، مذاکرات کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے منگل کو وقت دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی تھی، تاہم دیگر معاملات پر فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔

    پی ٹی آئی رہنما کے مطابق عمران خان کے علاج کا معاملہ بھی مذاکرات میں زیر بحث آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی اور ان کے خاندان کی مرضی کے مطابق کرایا جائے، جبکہ حکومت کا مؤقف تھا کہ علاج آئین اور قانون کے مطابق ہی ہوگا۔

    سلمان اکرم راجہ نے ایک اور بیان میں کہا کہ حکومت مذاکرات کے دوران مشاورت اور اتفاق رائے کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، انسداد دہشتگردی سے متعلق اقدامات سمیت اہم معاملات پر فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات موجود رہے، جس کے باعث مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات، صوبائی حکومت کے کردار اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات سمیت متعدد معاملات زیر بحث آئے، انسداد دہشتگردی کی پالیسی اور عمران خان تک رسائی کے معاملات مذاکرات میں اہم اختلافی نکات بن گئے تھے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر عائد کی تھی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تقریباً 99 فیصد نکات پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم سہیل آفریدی کی جانب سے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔

    محسن نقوی کے مطابق اگر پہلے ہی معلوم ہوتا کہ خیبرپختونخوا حکومت مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے معاہدے کو ویٹو کرے گی تو حکومت مذاکراتی عمل میں آگے نہ بڑھتی، معاملہ محض سیاسی نہیں بلکہ صوبے میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات سے بھی متعلق ہے اور خیبرپختونخوا حکومت کو وفاق کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار جمعہ اور ہفتے کو ہوئے، تاہم فریقین اہم معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں جانب سے مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجوہات بیان کی جارہی ہیں اور فریقین ایک دوسرے کے مؤقف کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں انسداد دہشتگردی کے اقدامات وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان مشاورت سے ہونے چاہئیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں صوبائی حکومت کو وفاق کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ اس معاملے پر اختلاف مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بڑی وجوہات میں شامل رہا۔

    یوں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کی جانب سے مذاکراتی عمل کے تعطل کی الگ الگ وجوہات سامنے آرہی ہیں۔ ایک جانب حکومت سہیل آفریدی کے کردار کو مذاکرات کی ناکامی کی وجہ قرار دے رہی ہے، جبکہ سلمان اکرم راجہ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور انسداد دہشتگردی سے متعلق تجاویز کو ڈیڈلاک کی بنیادی وجوہات میں شمار کیا ہے۔

  8. ریاست اورخیبرپختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں بلکہ دہشتگردی ہے، وزیر دفاع

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا ہےکہ گزشتہ 2 سال میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے تقریباً 6200 واقعات ہوئے،1200 شہادتیں ہوئیں،37 حملوں میں افغان شہری ملوث تھے، رواں سال 14 خودکش حملے ہوچکے، جن میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے۔

     خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی مجموعی نفری تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار ہے،خیبرپختونخوا پولیس کی 13 ہزار نفری وی آئی پی پروٹوکول پرتعینات ہے،خیبر پختونخوا پولیس کی 17 ہزار اسامیاں آج بھی خالی ہیں، ضم شدہ اضلاع میں سی ٹی ڈی کا نظام تقریباً غیر فعال ہے، پورے صوبے میں سی ٹی ڈی کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں، سی ٹی ڈی کی مجموعی نفری صرف 3300 کے قریب ہے، سی ٹی ڈی میں صرف 25 مستقل ہیں جب کہ باقی کنٹریکٹ ملازمین ہیں۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ  خیبرپختونخوا پولیس نےچوکیوں کی تعمیرنو اور انہیں مضبوط بنانے کےلیے 42 ارب روپے مانگے، خیبرپختونخوا حکومت نے صرف 1.2 ارب روپے جاری کیے لیکن  کاغذات میں 42 ارب روپےخرچ کیے جانےکا دعویٰ کیا گیا، حقیقت میں یہ رقم ہڑپ کرلی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا ہمیشہ کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے ایک نرم گوشہ رہا،پارٹی کی سوچ دہشت گردوں سے مذاکرات کے تصور  سے زیادہ ہم آہنگ رہی، آپ نے دہشت گردی صورتحال کا جائزہ  لینے کے لیے کتنے اپیکس کمیٹی کے اجلاس کیے؟ دہشت گردی کے خاتمےکے لیے آپ کی اپنی پالیسی کیا ہے؟

    انہوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں یہ ڈالر کی جنگ ہے، بتائیں گزشتہ چندبرسوں میں امریکا نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ  اور سکیورٹی کے لیےکتنے ارب ڈالر فراہم کیے؟ کیا کوہاٹ اورپشاور میں ہونے والے ڈرون حملے اور  پاکستانی سکیورٹی پوسٹوں پر ٹی ٹی اے کے حملے حقیقت نہیں ہیں؟

  9. قافلہ جب صوابی پہنچے گا تو مقتدر حلقوں کی نیندیں حرام ہوجائیں گی، سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قافلہ پیر کو کرک سے اپنے اگلے مرحلے کی جانب روانہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کرک کے عوام ہمیشہ سیاسی شعور اور بیداری کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین و قانون کی بالادستی کی بات کرے تو اسے ناسمجھ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ عوام ایسے ہی نظریات کے حامی ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کا جمِ غفیر اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر میں حکمران طبقے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک سمجھدار وہ لوگ سمجھے جاتے ہیں جو کرپشن کریں اور قومی مفادات پر سمجھوتے کریں۔ انھوں نے پشتونوں کے مسائل، فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر آواز اٹھانے کی وجہ سے انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ہر اس قوت کو ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہیں گے جو ان کے بقول پشتونوں کے مفادات کے خلاف فیصلے کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ سمیت دیگر پارٹی رہنما ناحق قید کاٹ رہے ہیں اور یہ سب ملک کے نوجوانوں اور عوام کے مستقبل کے لیے برداشت کر رہے ہیں۔

    سہیل آفریدی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے مستقبل اور اپنے بچوں کے بہتر کل کے لیے تحریک کا حصہ بنیں، ورنہ حکمران عوام کے وسائل پر قابض رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ طاقتور حلقوں کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلے قابل قبول نہیں ہیں۔

    وزیراعلیٰ کے مطابق لانگ مارچ کا اگلا پڑاؤ کوہاٹ میں ہوگا، جبکہ صوابی پہنچنے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب قافلہ صوابی پہنچے گا تو ’طاقتوروں کی نیندیں حرام ہو جائیں گی‘۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کہا کہ اس بار ان کی تحریک کا مقصد کامیابی حاصل کرنا اور عدلیہ، پارلیمنٹ اور میڈیا کو آزاد کرانا ہے۔

  10. سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج لکی مروت سے شروع کرنے کا اعلان

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا اعلان کردیا، جو آج 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے گنڈی چوک، لکی مروت سے شروع ہوگا۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت سے آنے والے قافلے گنڈی چوک سے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے۔ قافلہ رات کو کرک کے قریب قیام کرے گا، جہاں 5 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کرک کے عوام بھی مارچ کا حصہ بنیں گے۔

    وزیراعلیٰ کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 5 اکتوبر کو کرک سے قافلہ ساڑھے 12 بجے روانہ ہوگا اور رات کوہاٹ کے قریب قیام کرے گا۔

    6 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے قافلے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے۔ اس کے بعد قافلہ پشاور کی جانب روانہ ہوگا اور رات متنی کے قریب قیام کرے گا۔

    7 اکتوبر کو دوپہر ساڑھے 12 بجے پشاور کے بڈھ بیر سے قافلہ روانہ ہوگا، جب کہ ضلع خیبر کے عوام بھی مارچ میں شامل ہوں گے۔ پشاور کے دیگر حلقوں کے قافلے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازہ پر مارچ کا حصہ بنیں گے۔

    اعلان کے مطابق 7 اکتوبر کی رات قافلہ چارسدہ انٹرچینج کے قریب قیام کرے گا۔ 8 اکتوبر کو دوپہر ساڑھے 12 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی، جہاں چارسدہ اور مہمند کے قافلے شامل ہوں گے۔ اس کے بعد خیبرپختونخوا بھر کے قافلے خیرآباد میں جمع ہوں گے اور رات وہیں قیام کریں گے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کا اعلان خیرآباد میں کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ لانگ مارچ کا شیڈول ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا۔

    رپورٹس کے مطابق بنیادی اختلاف خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون کی یقین دہانی اور لانگ مارچ واپس لینے کے معاملے پر برقرار رہا۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت پرامن رہے گی، تاہم لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔

    رانا ثناء اللہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقات اور علاج معالجے سے متعلق مطالبات نسبتاً چھوٹے معاملات تھے، جب کہ اصل اختلاف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا حکومت کے کردار سے متعلق تھا۔ اگر پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف تعاون پر تیار ہو تو دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں۔

    دوسری جانب بیرسٹر گوہر نے مذاکرات میں ڈیڈلاک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم جن معاملات کے لیے بات چیت ہوئی تھی ان پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

    انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ برقرار ہے، تاہم اس کی آڑ میں ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہئیں جن سے صوبے کے عوام میں نفرت پیدا ہو۔

  11. پی ٹی آئی سکیورٹی معاملات پر سنجیدہ نہیں ، پہلے دن سے کہہ رہے ہیں یہ سیاسی تحریک نہیں: طلال چوہدری

     وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ  پی ٹی آئی سیاست کی آڑ میں سکیورٹی معاملات پر سنجیدہ نہیں ، پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ سیاسی تحریک نہیں۔

    وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے  پریس کانفرنس کرتے ہوئے  الزام لگایا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ٹی آئی نے مشترکہ پیٹرن پر احتجاج کی تاریخ رکھی ۔

    انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک سے لایا گیا اسلحہ پاکستان میں بدامنی کے لیے استعمال ہورہا ہے ،اس نے سیدھا وار کیا تو منہ کی کھائی پھر اپنی پراکسیز پر سرمایہ کاری بڑھائی۔

    طلال چوہدری  نے کہا کہ ضیا نامی شخص نے افغانستان سے زرغون نامی شخص سے اسلحہ خریدا ، ضیا کا رابطہ سردار امان سے رابطہ ہوا تھا ، اکبر نامی سرکاری ملازم وہ اسلحہ کشمیر لایا ، کیس کی تحقیقات میں دو مزید افراد گرفتار کیے گئے۔


  12. جیسے ہی صدر مملکت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق رپورٹ مانگی تو سفارشات سمیت بھیج دوں گا،گورنرکے پی

    پشاور میں  جیونیوز سے بات چیت کرتے ہوئےگورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صدرمملکت آصف زرداری نے تاحال صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق رپورٹ نہیں مانگی۔

    صدر پاکستان نے جیسے ہی رپورٹ مانگی تو تیار کرکے سفارشات سمیت بھیج دوں گا، صوبے میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہے،کے پی حکومت امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے وفاقی حکومت سے تعاون نہیں کر رہی ہے۔

  13. حکومت نے دہشتگردی اور صوبے کے سیاسی معاملات کو نتھی کیا تو مسائل پیدا ہوئے، علامہ ناصر عباس

    قائد حزب اختلاب سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ حکومت نے دہشتگردی اور صوبے کے معاملات کو سیاسی معاملات سے نتھی کیا تو مسائل پیدا ہوئے، کہا گیا جو لکھا ہوا ہے بغیر کسی تبدیلی کے تسلیم کیا جائے تو ہی معاملات مانے جائیں گے۔

    بتایا گیا  جو دہشتگردی پر لکھا گیا ہے اسے تسلیم کریں تو ہی سیاسی معاملات مانے جائیں گے۔

    علامہ ناصر عباس نے کہا ہم چاہتے تھے جرگے میں پیپلز پارٹی ،ن لیگ اور جے یو آئی کو ملا کر جو فیصلے ہوئے انہیں تسلیم کیا جائے، ہم نے کہا متفقہ فیصلے ہوں لیکن انہوں نے دونوں معاملات کو نتھی کر دیا جس سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا، یہ نہیں ہو سکتا آپ ہماری گردن پر خنجر رکھ دیں اور کہیں یہ مانیں گے تو دوسرا بھی تسلیم ہوگا۔

    علامہ ناصر عباس بولے کہ پی ٹی آئی ارکان نے کہا ہمیں بھی دھمکیاں ملتی ہیں ہم بھی چاہتے ہیں کہ دہشتگردی نہ ہو۔

    علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا پاکستان کے مسائل کا حل سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے مل بیٹھنے سے ہے، سیاسی قیادت بیٹھے گی تو مسائل حل ہوں گے ورنہ یہ چوہے بلی کا کھیل جاری رہے گا۔

  14. حکومتی کمیٹی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    حکومتی ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی جانب  سے مصالحانہ کردار کے لیے پیش کی گئی شرائط سے بھی وزیراعظم کو  آگاہ کردیا گیا۔

    کمیٹی کی رپورٹ کےمطابق  مولانا فضل الرحمان مذاکرات میں ڈیڈلاک کے خاتمے اور تنازعات  حل کرانے کے لیےکردار ادا کرنےکو تیار ہیں، وزیراعظم کو مولانا فضل الرحمان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا گیا ہے، وزیراعظم کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ متوقع ہے۔

  15. وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف کیس سماعت کے لیے مقرر

    وفاقی آئینی عدالت  نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی تقرری کے خلاف کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔

    چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ 15 اکتوبر کو سماعت کرےگا۔ ایڈووکیٹ شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تقرری چیلنج کر رکھی ہے۔

    ان کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ سزا یافتہ شخص کسی عوامی عہدیدار کی نامزدگی کا اختیار نہیں رکھتے۔

  16. وزیر اعظم نے آج وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا، ذرائع

    خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کے معاملے کے باعث وفاقی کابینہ کے ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کردی گئی، ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کرلیا گیا ہے۔

    اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کی منظوری لی جائے گی، ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کے حکام بریفنگ دیں گے۔ اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا۔

  17. خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کی تیاریاں مکمل، پہلے ایمرجنسی لگے گی

    خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کے لیے تمام تمام تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔

    ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنرز اور سیکرٹریز سمیت انتظامی تبدیلیوں سے متعلق ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے، ریجنل اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی تعیناتیوں سے متعلق بھی فہرست تیار ہو چکی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے کے 12 اضلاع میں پہلے ایمرجنسی لگانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے یا نہ لگانےکا دارومدار اپوزیشن اور حکومت وفد کے درمیان مذاکرات پر ہے، مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں لگایاجائےگا۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے لیکن پس پردہ اور خفیہ رابطے بدستور جاری ہیں۔

    دوسری جانب ذرائع کا بتانا ہے کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما آج وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سے ملاقات کر کے تازہ ترین صورتحال پر مشاورت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر اور دیگر پارٹی رہنما سہیل آفریدی سے ملاقات کریں گے اور انہیں وفاقی سطح پر ملنے والے پیغامات کے حوالے سے آگاہ کریں گے، ملاقات میں لانگ مارچ سے متعلق گفتگو بھی ہوگی، وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے اہم فیصلے لینے کا امکان ہے۔


  18. وزیراعلیٰ سندھ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کی مشروط حمایت کردی

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پی ٹی آئی کو دہشتگردی کیخلاف واضح موقف لینے کا مشورہ دیتے ہوئے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی مشروط حمایت کر دی۔

    سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرادی علی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں چاہتی لیکن پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو سوچنا پڑے گا کہ ملک جب دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے تو وہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ گورنر راج جمہوری طور پر ناپسندیدہ ہے مگر آئینی طور پر غلط اقدام نہیں ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کو ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے جوڑتے ہوئے گندم کی قلت کے تاثر کو مسترد کردیا۔

    پنجاب کی طرح سبسڈی دینے کے سوال پر مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت پہلے ہی گندم پر سبسڈی دے چکی ہے، ضرورت پڑی تو مزید سبسڈی دیں گے۔


  19. پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    شاہد خٹک نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ پشاور میں موجود ہیں اور شہریوں سے باہر نکلنے کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ پشاور کے لوگ اپنے محبوب رہنما عمران خان اور ان کے ایک سپاہی کے لیے گھروں سے باہر نکلیں۔

    دوسری جانب اتوار کو ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال سے متعلق وزیراعظم کی ایڈوائس پر دستخط کردیے ہیں۔

    بیان کے مطابق صدر مملکت نے آئین پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کرتے ہوئے اس پر دستخط کیے۔

  20. ڈاکٹر فخر عالم عرفان چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا تعینات

    وفاقی حکومت نے ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا تعینات کردیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن 11 اکتوبر 2026 کو جاری کیا گیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کی بطور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا تعیناتی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور وہ تاحکمِ ثانی اس عہدے پر خدمات انجام دیں گے۔

    ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے افسر ہیں۔ وہ اس سے قبل وفاقی وزارتِ توانائی کے پاور ڈویژن میں سیکریٹری تعینات تھے۔

    ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مردان سے ہے۔

  21. خیبر پختونخوا کے عوام صدارتی پروکلیمیشن کا خیرمقدم کرتے ہیں، گورنر

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کے عوام صدارتی پروکلیمیشن کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ مزید فتنۃ الخوارج کا ساتھ نہیں دیں گے۔ عوام اپنے سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر دہشت گردوں کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے۔

    گورنر کے مطابق صوبے کے عوام انتشار اور بدامنی کے بجائے پُرامن اور خوشحال مستقبل چاہتے ہیں۔ وہ دیگر صوبوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کے خواہاں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ باہمی تجربات اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے صوبے میں ترقی و خوشحالی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ عوام جمہوری اقدار کے فروغ اور ترقی کے ثمرات عام شہری تک پہنچتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام امن پسند ہیں اور دہشت گردی و پُرتشدد کارروائیوں کی ہرگز حمایت نہیں کرتے۔

    انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ کسی بھی قسم کی قانون شکنی، اشتعال انگیزی اور دنگا فساد سے مکمل اجتناب کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان خراب کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

  22. خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد وزیراعلیٰ، صوبائی وزرا اور مشیران عہدوں سے فارغ

    خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ، تمام صوبائی وزرا، مشیران اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدوں سے فارغ ہوگئے ہیں۔

    پشاور میں ریڈ زون، وزیراعلیٰ ہاؤس، صوبائی اسمبلی اور دیگر حساس سرکاری مقامات کو کنٹینرز لگا کر سیل کردیا گیا ہے، جبکہ مختلف مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

    پشاور کی سٹی ٹریفک پولیس نے شہریوں اور مسافروں کے لیے متبادل ٹریفک پلان جاری کردیا ہے۔ اسمبلی چوک سے تہکال اور خیبر روڈ سمیت متعدد راستے بند کردیے گئے ہیں۔

    اسی طرح امن چوک، صدر سواتی پھاٹک سے گلبرگ چوک تک ٹریفک معطل ہے، جبکہ باچا خان چوک سے سوری پل اور کبابیان چوک سے مچنی چنکی تک بھی راستے بند کردیے گئے ہیں۔

    ریڈ زون میں آمدورفت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ سکیورٹی انتظامات کے تحت صوبے بھر میں فوج، رینجرز، اسپیشل کمانڈوز، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق ارکان صوبائی اسمبلی سے سکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے، جبکہ احتجاج، مارچ، توڑ پھوڑ اور بدامنی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اشتعال انگیزی یا پابندیوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

    دہشت گردی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر موبائل فون سروس بھی بند کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

  23. خیبر پختونخوا ایپکس کمیٹی کا اجلاس، صوبے میں قیام امن کے لیے اہم فیصلے

    خیبر پختونخوا کی اپیکس کمیٹی نے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے اور انہیں جدید اسلحہ فراہم کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

     گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر پشاور اور  اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔

    اجلاس میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور  پائیدار امن کے قیام کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا عزم کیا گیا اور دہشتگردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری رکھنےکا فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اپیکس کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ صوبے میں امن و امان کی بہتری کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئےکار لائے جائیں گے، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے کیلئے جدید آلات، اسلحہ اور ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

    ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پولیس کو بکتر بندگاڑیاں، ضروری گاڑیاں اور مطلوبہ نفری فراہم کی جائےگی، دہشتگردی کا خاتمہ اور امن کا قیام تمام ریاستی اداروں کی مشترکہ ترجیح ہے۔

    یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کی تعلیم، صحت اور معیار زندگی سے متعلق مسائل پر توجہ دی جائے گی، پسماندہ اور متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائےگی۔

  24. جو شخص قانون ہاتھ میں لے گا وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا، گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص قانون ہاتھ میں لے گا وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا۔

    انہوں نے کہا ہے کہ صوبے میں 17000 ہزار پولیس کی آسامیاں خالی ہیں۔


  25. خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں، عطا اللہ تارڑ

    عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران ایک معاہدے پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اسے مسترد کردیا۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت ایک طرف افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کررہی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں، جبکہ صوبائی حکومت کا افغانستان کے بارے میں مؤقف مختلف رہا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال خراب ہوچکی تھی اور حکمرانی کا نظام مفلوج تھا۔ ان کے مطابق جنوبی اضلاع میں دہشت گردوں کے اثر و رسوخ سے متعلق قابل اعتماد اطلاعات موجود ہیں، جبکہ سیاست، جرائم اور دہشت گردی کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ بھی سامنے آیا ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ غیر قانونی تجارت اور سرحد پار اسمگلنگ سے دہشت گردوں کو مبینہ طور پر سہولت ملتی رہی ہے۔

    عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت خیبر پختونخوا کو اب تک تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جاچکے ہیں۔ ان کے مطابق سوال یہ ہے کہ ان وسائل کو محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے، سیف سٹی کیمرے نصب کرنے، فرانزک لیبارٹری قائم کرنے اور پولیس کو جدید آلات فراہم کرنے پر کیوں خرچ نہیں کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، کیونکہ اس سے ان کی زندگی اور روزگار شدید متاثر ہوئے ہیں۔ کوہاٹ میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد زخمیوں اور شہدا کے اہل خانہ سے ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشکلات کے باوجود متاثرہ افراد کے عزم میں کمی نہیں آئی۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت قومی ایکشن پلان کے تحت اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کرنے اور انسداد دہشت گردی کی مربوط پالیسی نافذ کرنے میں سنجیدہ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کی صورت میں عوام کے سڑکوں پر نکلنے کے دعوے کیے گئے، تاہم ان کے بقول ایسا نہیں ہوا۔

    عطا اللہ تارڑ نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم، صحت اور بنیادی سرکاری خدمات کے شعبوں میں مطلوبہ اصلاحات نہیں ہوئیں۔ انہوں نے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت کوہاٹ جاتے ہوئے ایک پیٹرول پمپ پر گاڑیوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کا ذکر کیا اور سوال اٹھایا کہ گزشتہ ساڑھے 13 برسوں میں ان گاڑیوں کی رجسٹریشن کیوں نہیں کی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ تشکیل دی گئی مشاورتی کونسل میں قبائلی توازن اور صنفی نمائندگی کا خیال رکھا گیا ہے، جبکہ سرکاری اور نجی شعبوں کے تجربہ کار افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق نئی ٹیم صوبے میں عوامی خدمات بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    ### ایمرجنسی کا نفاذ آئین کے تحت کیا گیا، اعظم نذیر تارڑ

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی۔

    غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1973 کے آئین سمیت سابقہ آئینوں میں بھی غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے آئینی طریقہ کار موجود رہا ہے۔ ان کے مطابق آئین کے تحت وزیراعظم کے مشورے پر صدر مملکت ہنگامی حالت کا اعلان کرسکتے ہیں۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے اور اس جنگ میں بے شمار قربانیاں دی جاچکی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور مختلف سرکاری اداروں کی رپورٹس ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے میں اہم عوامل تھے۔

    وزیر قانون کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 2 ہزار 911 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ بعد کے عرصے میں ان کی تعداد بڑھ کر تقریباً 8 ہزار 600 ہوگئی۔ انہوں نے اسے دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس، مسلح افواج، وفاقی اداروں اور کسٹمز حکام کو دہشت گرد حملوں کا سامنا رہا، جبکہ علما اور عام شہری بھی نشانہ بنے۔ ان کے مطابق بے گناہ شہریوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہے۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان وفاق ہے جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئین کے تحت اپنے اپنے دائرہ اختیار میں کام کرتی ہیں، تاہم دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سیاسی حل کے لیے بھی کوششیں کیں اور ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے شرکت کی۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے مذاکرات میں سہولت فراہم کی اور کئی معاملات حل بھی ہوئے، تاہم بعض اختلافات کے باعث مذاکرات مثبت نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔

    وزیر قانون نے کہا کہ ایمرجنسی جیسے اقدامات حکومت کی پہلی ترجیح نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق موجودہ فیصلے کی بنیادی وجہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہے اور قومی مفاد کو سیاسی ترجیحات پر مقدم رکھنا ضروری ہے۔

    ### دہشت گردی کے واقعات اور ہلاکتوں میں اضافے کا دعویٰ

    عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ 2025 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 3 ہزار 774 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ ستمبر 2026 تک 2 ہزار 857 واقعات سامنے آئے۔

    ان کے مطابق 2025 میں دہشت گردی کے واقعات میں 3 ہزار 512 ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ 2026 میں اس وقت تک ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار 775 رہی۔ انہوں نے مارچ 2024 سے ستمبر 2026 تک دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں اضافے اور پولیس کو نشانہ بنانے کے واقعات میں 168 فیصد اضافے کا بھی دعویٰ کیا۔

    عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل قائم کی جائے گی، جس میں چیئرمین، وائس چیئرمین، ارکان اور ترجمان شامل ہوں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ یحییٰ اخونزادہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی حیثیت سے ایڈمنسٹریٹر کے فرائض انجام دیں گے۔ نئے انتظامی ڈھانچے میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسداد منشیات، قانونی امور، قبائلی امور اور انسانی حقوق کے شعبوں کو شامل کیا جائے گا۔

    وزیر اطلاعات کے مطابق نئی کونسل میں علاقائی اور قبائلی نمائندگی کا توازن برقرار رکھا جائے گا، جبکہ اس کا مقصد امن و امان کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ نئی ٹیم میں مختلف شعبوں کے تجربہ کار افراد شامل ہیں، جن میں سابق چیئرمین ایف بی آر، سابق سیکریٹری خزانہ پنجاب، سپریم کورٹ کے وکیل اور سابق ایڈووکیٹ جنرل امیر جاوید، انسداد دہشت گردی کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر سید امیر عبداللہ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر خان اور دیگر ماہرین شامل ہیں۔

    عطا اللہ تارڑ نے رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور اس کے خلاف مضبوط آواز رہی ہیں۔ ان کے مطابق نئے انتظامی ڈھانچے کا مقصد دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا، امن و امان بحال کرنا اور عوامی خدمات بہتر بنانا ہے۔

مزید خبریں