لائیو

حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات ختم، ڈیڈلاک برقرار، کیا پی ٹی آئی کا آج اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع ہوگا؟

اظہر تھراج
حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات ختم، ڈیڈلاک برقرار، کیا پی ٹی آئی کا آج اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع ہوگا؟29 ستمبر، 2026

وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ سمیت مختلف معاملات پر جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، تاہم فریقین کے درمیان حتمی معاہدہ اور لانگ مارچ کے خاتمے کا فیصلہ تاحال واضح نہیں ہوسکا۔ تفصیلات کے مطابق مذاکرات کے بعد معاہدے کا مسودہ تیار کیا جا رہا تھا اور بعض اہم نکات پر دونوں جانب سے اتفاق رائے بھی سامنے آیا، تاہم حتمی اعلان سے قبل اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے رابطے کے بعد معاملہ ایک بار پھر غیر واضح ہوگیا ہے۔

  • آج لاہور میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض محکمے اور ادارے کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہیں اور نظام کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

  • دوسری جانب خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ پارٹی کی جانب سے مارچ کے روٹ اور قیادت کے حوالے سے مختلف اعلانات سامنے آچکے ہیں، جبک ہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کے دوران 4 اکتوبر کے احتجاج کی صورتحال بھی اہم سیاسی معاملہ بنی ہوئی ہے۔

  • ادھر پاکستان کی سرحدوں سے باہر مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور سفارتی کشیدگی بدستور عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے امکانات کی بات کر رہے ہیں، تاہم مذاکرات میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔

  • اسی دوران امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کے لیے تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی خطے کی جانب بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ امریکی قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام نے ایران اور یمن کی صورتحال پر کیمپ ڈیوڈ میں اہم اجلاس بھی کیا۔

  • غزہ میں جنگ بندی کے باوجود تشدد مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکا۔ تازہ اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ سٹی کی ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔

تازہ اپڈیٹس

  1. محسن نقوی ایوانِ صدر پہنچ گئے

    نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ محسن نقوی صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کے لیے ایوانِ صدر پہنچ گئے۔

    ذرائع کے مطابق محسن نقوی صدرِ مملکت کو تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

  2. حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگیا

    حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے چیمبر میں شروع ہوگیا۔ اسپیکر ایاز صادق مذاکرات کی صدارت کر رہے ہیں۔

    مذاکرات کے آغاز پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ گزشتہ روز کا اجلاس خوشگوار ماحول میں ہوا تھا اور امید ہے کہ آج بھی تمام فریقین اسی ماحول میں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے اراکین کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    حکومت کی جانب سے وفاقی وزرا امیر مقام، رانا ثنااللہ، محسن نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری مذاکرات میں شریک ہیں، جب کہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جکھرانی کر رہے ہیں۔ اپوزیشن وفد میں بیرسٹر گوہر علی خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ شامل ہیں۔

    مذاکرات کا دوسرا دور کیوں اہم ہے؟

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 2 اکتوبر کو ہوا تھا، جس میں دونوں جانب سے سیاسی صورتحال اور قومی امور پر مؤقف پیش کیا گیا اور مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا تھا۔ دوسرے دور میں فریقین کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات پر مزید گفتگو متوقع ہے۔

    مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حکومت مارچ واپس لینے پر زور دے رہی ہے جب کہ اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات میں سیاسی مطالبات اور پی ٹی آئی بانی عمران خان کے علاج سمیت دیگر معاملات اٹھائے جانے کی توقع ہے۔

    مذاکرات میں شرکت کے لیے پہنچنے پر پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف میں تمام لوگ مثبت مذاکرات کے حق میں ہیں۔ یہ تاثر درست نہیں کہ پارٹی میں کوئی مذاکرات کے خلاف ہے، مسائل کا حل مثبت مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے۔

  3. مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے، فریقین سیاسی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کریں گے: بیرسٹر گوہر

    بیرسٹر گوہر نے مذاکرات میں شرکت سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزرا کے بیانات سے مایوسی ہوئی ہے اور خواجہ آصف کو اپنے بیانات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات تاخیر کا شکار نہیں ہوئے، بلکہ مذاکرات قوم، ملک اور جمہوریت کے لیے ضروری ہیں۔ مذاکرات صوبوں کی خودمختاری اور مضبوط اتھارٹی کے لیے بھی اہم ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی کہ آج مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے اور فریقین سیاسی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کریں گے۔

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق پہلے دور میں فریقین نے ایک دوسرے کے مؤقف سنے اور قومی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

  4. سیاسی جماعتوں سے امید نہیں رہی، اصلاح نہ ہوئی تو کاکروچ باہر آئیں گے: سعد رفیق

    سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے اب امید نہیں رہی، اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو پھر ’کاکروچ‘ باہر آئیں گے، تاہم یہ معلوم نہیں کہ ان کی سربراہی کون کرے گا۔

    ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی، ایک دوسرے پر الزامات اور طعنے دینے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا جب کہ جماعتوں کو چاپلوسی کے کلچر کی بھی حوصلہ شکنی کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ عوام ملک کی سیاسی صورتحال سے بددل ہوتے جارہے ہیں، سیاسی جماعتوں کو عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہوگا، بصورت دیگر ملک مسلسل بحرانوں اور سانحات سے دوچار ہوتا رہے گا۔

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک انتخاب میں 40 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی، تاہم پی ٹی آئی نے ان کی کامیابی کو تسلیم نہیں کیا۔ سیاسی جماعتوں کو انتخابی نتائج اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔

    سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ چھوٹے صوبوں کے حقوق کے حامی ہیں، تاہم مسائل صرف صوبائی حقوق دینے سے حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے نیت اور طرزِ حکمرانی درست کرنا ہوگی۔ ماضی میں اپنے ہی لوگوں کے ساتھ سوتیلے باپ جیسا سلوک کیا گیا۔

    انہوں نے مؤثر بلدیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئے اور باصلاحیت لوگ اسی نظام کے ذریعے سامنے آسکتے ہیں، جب کہ بعض اوقات اہلیت نہ رکھنے والے افراد کو عوام پر مسلط کردیا جاتا ہے۔

    خواجہ سعد رفیق نے موجودہ سیاسی جماعتوں کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میری سیاسی عمر اب زیادہ نہیں رہی۔ معاشرے کو بیدار کرنے کے لیے مختلف آوازوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا ہوگا، تاہم فی الحال نئی سیاسی جماعت بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ موجودہ ’لولی لنگڑی اور ٹوٹی پھوٹی جماعتوں‘ سے ہی گزارہ کرلینا چاہیے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہ خیالات مسلم لیگ ن کی نمائندگی کرتے ہوئے نہیں بلکہ اپنی ذاتی رائے کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مڈل کلاس کو اسمبلیوں میں آنے کا موقع ملنا چاہیے۔

    سعد رفیق نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ہر الیکشن میں مداخلت ہوئی، تاہم بعض انتخابات میں مداخلت ضرور ہوئی ہے۔

    انہوں نے ماضی کے سیاسی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک منتخب حکومت کے دور میں دھرنے کرائے گئے جبکہ نواز شریف کی منتخب حکومت کے دور میں بھی ایسے حالات پیدا ہوئے کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

  5. آبنائے ہرمز کی بندش ناقابل قبول، سفارتکاری سے بحران کا حل چاہتے ہیں: قطری وزیراعظم

    قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو بند کرنا یا وہاں بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنا قابلِ قبول نہیں، آبنائے ہرمز خطے اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم آبی راستہ ہے اور اس معاملے کا حل سفارتی کوششوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا کہ قطر آبنائے ہرمز سے متعلق بحران کے حل کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دے رہا ہے اور اس مقصد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، موجودہ صورتحال انتہائی پیچیدہ اور مشکل ہے، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

    قطری وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے طور پر محفوظ اور قابلِ رسائی رہنا چاہیے، ساحلی ریاست کی حیثیت سے قطر سمیت متعلقہ ممالک کے ایسے قانونی حقوق کا تحفظ ضروری ہے جو بین الاقوامی قانون کے تحت اس آبی راستے سے آزادانہ آمدورفت سے متعلق ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو کسی بھی تنازع میں دباؤ یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ قطر کی وزارت خارجہ بھی اس سے قبل آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت کی بحالی کو ترجیح قرار دے چکی ہے اور اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS) کے قانونی فریم ورک کے تحت مسئلے کے حل پر زور دے چکی ہے۔

    شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا کہ خطے کی موجودہ پیچیدگیوں کے باوجود ممالک کو خاموش تماشائی بننے کے بجائے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہوگا، اگر خطے کے ممالک باہمی تعاون اور اتحاد کو مضبوط کریں تو خلیجی خطہ عالمی سطح پر زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

    قطری وزیراعظم کے مطابق مشرق وسطیٰ کو درپیش مسائل کا حل کشیدگی میں اضافے کے بجائے مذاکرات، سفارتکاری اور علاقائی تعاون میں ہے، قطر اپنے خطے اور عوام کے لیے بہتر نتائج کے حصول کی کوشش جاری رکھے گا۔

    شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے قطر کے ثالثی کردار کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ثالثی اور مذاکرات کو آگے بڑھانا قطری خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے، دوحہ مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں اور سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

    قطر کی جانب سے آبنائے ہرمز کے معاملے پر سفارتی کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب اس آبی راستے کی بندش نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں قطر نے عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔

    قطری وزارت خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کو دیگر سیاسی تنازعات کے مکمل حل سے الگ بھی آگے بڑھایا جاسکتا ہے، تاکہ آبی راستے میں رکاوٹ کے معاشی اثرات مزید نہ بڑھیں۔ دوحہ نے اس مقصد کے لیے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ رابطے جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔

    قطری وزیراعظم نے واضح کیا کہ خطے میں امن، استحکام اور آزادانہ بحری آمدورفت کے لیے سفارتی راستہ ہی بنیادی ذریعہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ بحران کے حل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مذاکرات اور تعاون کے ذریعے قابلِ عمل راستہ تلاش کرنا ہوگا۔

  6. انڈیا کو خبردار کرتے ہیں اگر کوئی کارروائی کی تو ایسا سبق سکھائیں گے، تمہاری آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈین فوج کی کارروائی اور محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ سے متعلق انڈین دعووں پر پاکستان کا مؤقف پیش کردیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران فالس فلیگ آپریشن سے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 29 ستمبر کی رات انڈین چنار کور نے مقبوضہ کشمیر میں جوائنٹ سرچ آپریشن سے متعلق ٹویٹ کیا اور آپریشن کے دوران ایک شخص کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق تقریباً ساڑھے 7 گھنٹے بعد 30 ستمبر کو انڈین ملٹری کی جانب سے ایک اور اپڈیٹ جاری کی گئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد کی لاش ملی ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انڈین فوج نے ہلاک کیے گئے شخص کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے ظاہر کی اور دعویٰ کیا کہ اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈین نیوز ایجنسی نے بھی مبینہ دہشت گرد کی تفصیلات سروس نمبر کے ساتھ جاری کیں اور دعویٰ کیا کہ محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ ایس ایس جی کا حوالدار ہے۔

    انڈین میڈیا اور خبر رساں اداروں نے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کو سابق پاکستانی فوجی قرار دیتے ہوئے اس کے حوالے سے مختلف تفصیلات شائع کیں۔ انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی نے دعویٰ کیا کہ محمد آصف 7 مارچ 1980 کو پیدا ہوا، 2000 میں پاک فوج میں بھرتی ہوا اور اس کا سروس نمبر PA-3106947 تھا۔

    اے این آئی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ محمد آصف نے پاک فوج میں حوالدار کے عہدے پر خدمات انجام دیں، جب کہ انڈین میڈیا کی جانب سے اسے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) سے بھی منسلک کیا گیا۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انڈین فوج کے بعد انڈین حکومت کی جانب سے بھی اس واقعے سے متعلق تفصیلات سامنے آئیں، تاہم دونوں کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔

    انہوں نے بتایا کیا کہ انڈین حکومت نے محمد آصف کو لشکر طیبہ کا کمانڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ 4 سال سے مقبوضہ کشمیر میں سرگرم تھا اور وہاں متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انڈیا نے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کو ایک بڑے دہشت گرد کے طور پر پیش کیا اور انڈین میڈیا نے بھی اس دعوے کو بھرپور انداز میں نشر کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسی خبروں سے اڑی اور پہلگام کے واقعات سے متعلق انڈین دعوؤں کی یاد تازہ ہوتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انڈین فوج نے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کا شناختی کارڈ بھی دکھایا اور اس واقعے کو اپنی کارروائی کی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ’آپریشن شیرووالی‘ مئی میں شروع کیا گیا تھا اور انڈین فوج تقریباً 6 ماہ بعد اس میں کامیابی کا دعویٰ کر رہی ہے۔

    انہوں نےانڈین فوج کے دعوے پر طنزیہ انداز میں کہا کہ انڈین فوج کی نام نہاد کامیابی پر انہیں مبارکباد دیں اور تالیاں بجائیں، جب کہ انڈین حکومت کی جانب سے بھی محمد آصف کو فوجی قرار دے کر اس کے مبینہ کارناموں کو بڑا بنا کر پیش کیا گیا۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ انڈین فوج اور میڈیا کے دعوے کے بعد پاکستان نے محمد آصف کو تلاش کیا اور انہیں میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔

    میڈیا کے سامنے موجود محمد آصف نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے علاقے پنڈی گھیب کے رہائشی ہیں اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ راولپنڈی میں رہتے ہیں۔

    محمد آصف کے مطابق دوستوں نے انہیں بتایا کہ سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں خبر چل رہی ہے کہ انہیں انڈین فوج نے کشمیر میں شہید کردیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انہوں نے دوستوں سے کہا کہ وہ ان کے سامنے زندہ موجود ہیں، انہیں کس طرح شہید کیا جاسکتا ہے۔

    محمد آصف نے مزید بتایا کہ اس خبر کے بعد انہیں انڈین نمبروں سے فون کالز بھی آنا شروع ہوگئیں۔ انڈین میڈیا کی جانب سے ان کا ڈیٹا استعمال کیے جانے کا علم ہوا تو انہیں حیرت ہوئی کہ وہ گھر میں موجود ہیں اور انڈیا نے انہیں شہید قرار دے دیا ہے۔

    ان کے مطابق انہوں نے اپنے یونٹ اور آئی ایس پی آر کو تمام تفصیلات سے آگاہ کردیا تاکہ ریکارڈ واضح رہے۔

    محمد آصف نے بتایا کہ وہ 2000 میں پاک فوج میں بھرتی ہوئے، 2005 میں ایس ایس جی جوائن کی اور 18 سال ملازمت کے بعد 2023 میں ریٹائر ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے 3 سال ایک نجی سکیورٹی کمپنی میں ڈیوٹی کی اور اس وقت اپنے ذاتی گھر میں موجود ہیں۔

    محمد آصف نے کہا کہ انڈین فوج نے انہیں دہشت گرد ظاہر کرکے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، حالاں کہ وہ زندہ سلامت سب کے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے انڈین دعوے کو جھوٹا اور گھناؤنا قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انڈیا نے اپنی دہشت گردی کو دیگر ممالک تک بڑھا دیا ہے، انڈیا دہشت گردی بھی کرتا ہے اور اس پر فخر بھی کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا مختلف تنظیموں کو فنڈنگ کرتا ہے، جن میں مکتی باہنی، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی شامل ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ انڈیا خود اپنے ملک میں مسلمانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتا ہے، جب کہ سکھ اور مسیحی برادری کو بھی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈیا اور افغان طالبان رجیم کا گٹھ جوڑ بھی سب کے سامنے ہے۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے، جہاں تقریباً 10 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جانے کے لیے بھی اجازت لینا پڑتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ انڈیا فوج کشمیریوں کے گھروں کو دھماکوں سے اڑا دیتی ہے اور کشمیری عوام پر ظلم و ستم کی انتہا کردی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ انڈیا خود ظلم کر رہا ہے اور اس کا الزام دوسروں پر لگانا چاہتا ہے۔ انڈیا اپنے ظلم کا الزام پنڈی گھیب کے محمد آصف پر نہیں لگا سکتا اور انڈیا کو کوئی مشورہ دے کہ وہ پاکستان کی ریاستی عمل داری سے باہر نکلے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے پر تحقیقات کی پیشکش بھی کی تھی، جب کہ دنیا انڈیا کے دوہرے چہرے کو اچھی طرح پہچان چکی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے انڈین میڈیا پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جنگ کے دوران انڈین میڈیا نے کراچی پر قبضہ کرنے کے دعوے بھی کیے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ انڈین فوج کا ایجنڈا ہندوتوا اور اپنے ماسٹرز کو خوش کرنا ہے، پاکستان کو ایک گھٹیا دشمن کا سامنا ہے جو افسوس ناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ایسا پڑوسی ہے جو دہشت گردی کو مسئلے کا حل سمجھتا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہمارے پاس ایسا پڑوسی ہے جو آصف کو مردہ قرار دیتا ہے، ایسے پڑوسی کا ہونا ہمارے لیے بڑے افسوس کی بات ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے انڈیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی کارروائی کی تو اسے یوں ہی نہیں چھوڑیں گے، انڈیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اس کے ساتھ کیا کرسکتے ہیں۔

    ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ پاکستان کا مکہ الائنس سے کمٹمنٹ ہے اور اس حوالے سے کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور حرمین شریفین کی حفاظت میں پاکستان کا کردار واضح ہے اور انڈیا کی گھناؤنی شکل سب کے سامنے آچکی ہے۔

    پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ تینوں ممالک کے درمیان معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد اجتماعی دفاع اور علاقائی استحکام ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے دہشت گردی کو منتخب کیا ہے اور پاکستان پر حملوں میں افغان بھی ملوث ہیں۔

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ طالبان نے کیا کیا؟ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ افغان طالبان رجیم سے ہے۔ یہ رجیم غیرمنتخب اور زبردستی قابض ہے اور افغانستان میں تمام دہشت گرد تنظیموں کو جمع کرلیا گیا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

    یاد رہے کہ انڈیا نے اس سے قبل بھی 22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے میں پاکستان پر ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

    پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا اور مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں بھی ہوئیں۔

    پاکستان کی جانب سے ان کارروائیوں کے دوران انڈین جنگی طیارے بھی مار گرائے گئے تھے، جب کہ اس حوالے سے مختلف انڈین، پاکستانی اور بین الاقوامی ذرائع میں مختلف تفصیلات سامنے آئی تھیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی موجودہ پریس کانفرنس میں بھی مقبوضہ کشمیر میں محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کی ہلاکت اور اسے سابق پاکستانی فوجی قرار دینے سے متعلق انڈین دعووں کو خصوصی طور پر زیر بحث لایا گیا۔ حالیہ انڈین رپورٹنگ میں بھی محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کو سابق پاکستانی ایس ایس جی اہلکار اور لشکر طیبہ کا کمانڈر قرار دینے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

  7. جموں و کشمیر پر ترک صدر کا حوالہ مسترد کر دیتے ہیں، انڈیا کا ایک مرتبہ پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ترک صدر رجب طیب ایردوان نے جموں و کشمیر پر جو حوالہ دیا، ’انڈیا اسے مسترد کرتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں ’مسئلہ کشمیر‘ سمیت تمام تنازعات کو ’اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔‘

    اس خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کے روز انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر کا ’معاملہ انڈیا کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری سے متعلق ہے‘ اور کسی بھی بیرونی فریق کو اس پر بات کا اختیار نہیں۔

  8. غزہ میں جنگی جرائم کے شواہد موجود ہیں، سابق جرمن نائب چانسلر

    جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی سے گفتگو کرتے ہوئے جرمنی کے سابق نائب چانسلر رابرٹ ہابیک نے اسرائیل پر غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے شواہد موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہر قسم کی یہود مخالف سوچ کی نشاندہی کرکے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسرائیل یا اسرائیلی حکومت پر تنقید کرنے سے روک دیا جائے۔

    سابق جرمن نائب چانسلر نے اسرائیل کی غزہ میں جنگی کارروائیوں کو جرمنی میں بائیں بازو کے حلقوں میں یہود مخالف جذبات میں اضافے سے بھی جوڑا اور کہا کہ اسرائیلی اقدامات اور غزہ میں جنگی جرائم کے باعث یہ معاملہ مزید نمایاں ہوا ہے۔

    ہابیک نے اسرائیل کو ایک ’پرامن ملک‘ قرار دینے کے تاثر کو بھی مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک مضبوط فوجی طاقت رکھنے والی ریاست ہے جو بیرونی دنیا کے حوالے سے جارحانہ رویہ بھی رکھتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غزہ میں صورتحال ایک ایسے مرحلے تک پہنچ چکی ہے جو بہت سی جگہوں پر بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ اسرائیل میں بھی بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ جرمن حکومت اسرائیلی حکومت کے اقدامات پر جرائم اور تنقید کے حوالے سے زیادہ واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے۔

    واضح رہے کہ رابرٹ ہابیک 2021 سے 2025 تک جرمنی کے نائب چانسلر اور وزیرِ اقتصادی امور رہے۔ وہ گرین پارٹی سے وابستہ ہیں۔

    دوسری جانب غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں فلسطینی حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ 74 ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں، جب کہ تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوچکا ہے۔

  9. امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ڈالر مزید گرگیا

    ایران میں امریکی ڈالر کی قیمت دو لاکھ 50 ہزار تومان کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔

    ایران میں زر مبادلہ کی شرح جاری کرنے والے ذرائع کے مطابق منگل کے روز ایک یورو کی قیمت دو لاکھ 84 ہزار تومان سے تجاوز کر گئی، جبکہ برطانوی پاؤنڈ تین لاکھ 31 ہزار تومان سے زائد میں فروخت ہوا۔

    ماہرین کے مطابق معاشی صورتحال میں بہتری کی واضح امید نہ ہونے، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے غیر یقینی مستقبل اور جنگ کے مکمل خاتمے سے متعلق ابہام کے باعث سرمایہ کار متبادل منڈیوں، خصوصاً زر مبادلہ اور سونے کی جانب رخ کر رہے ہیں۔

    ملک میں کئی ماہ سے جاری کرنسی کی قدر میں کمی کے نتیجے میں کاروباری طبقہ بھی مشکلات کا شکار ہے۔ متعدد کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ ڈالر کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث وہ اپنی اشیا فروخت کرنے سے ہچکچا رہے ہیں، کیونکہ فروخت کے بعد وہی سامان دوبارہ زیادہ قیمت پر خریدنا پڑتا ہے۔

  10. قرض کی ادائیگی یا معاملہ کوئی اور، ایرانی نجی ائیر لائن کا طیارہ ترکیہ میں روک لیا گیا

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران کی نجی فضائی کمپنی کیسپیئن ایئرلائن کے ایک مسافر بردار طیارے کو ترکی کے شہر استنبول کے ہوائی اڈے پر روک لیا گیا ہے۔

    اس کی وجہ قرض کی عدم ادائیگی بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تحویل میں لیا گیا طیارہ بوئنگ 500-737 ماڈل کا ہے۔

    کیسپیئن ایئرلائن کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں کہا کہ بوئنگ طیاروں میں سے ایک کی آپریشنل سرگرمی عارضی طور پر ایک انتظامی معاملے کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ معاملے کے حل کے لیے رابطے اور قانونی و انتظامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں، جبکہ روکا گیا طیارہ آج (منگل) ایران واپس آ جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ استنبول سے تہران روانگی کی تیاری کر رہا تھا کہ عدالتی حکم پر اسے روک لیا گیا، جس کے بعد مسافروں کو طیارے سے اترنا پڑا۔

    ہوا بازی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی تمسیل گیزٹم کا کہنا ہے کہ کیسپیئن ایئرلائن اس کی تقریباً 30 لاکھ یورو کی مقروض ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مذکورہ کمپنی نے طیارے کی ضبطی کے لیے عدالت سے حکم حاصل کیا تھا۔

  11. قطر نے لاپتہ ایرانی پائلٹس کے بارے میں کوئی نئی معلومات نہیں دیں: ایرانی فوج

    ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ قطر کی فوج اور حکومت نے تین لاپتہ ایرانی پائلٹس کے بارے میں کوئی نئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

    محمد اکرامینیا نے عربی زبان کے ایرانی ٹی وی چینل العالم سے گفتگو میں کہا کہ ’قطر کی فوج اور حکومت نے ہمیں کوئی نئی معلومات نہیں دی ہیں اور وہ مسلسل یہ کہتے ہیں کہ انھیں ان پائلٹس کی صورتحال کے بارے میں علم نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران کو توقع ہے کہ قطر ان تینوں افراد کے بارے میں جلد از جلد صورتحال واضح کرے گا۔

    ایران نے تقریباً دو ماہ قبل دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے آغاز کے دو روز بعد ایرانی فضائیہ کے دو جنگی طیاروں نے شیراز ایئر بیس سے ایک مشن کے دوران قطر میں واقع العدید امریکی اڈے کو ’بھاری نقصان‘ پہنچایا تھا۔

    ایران کے مطابق واپسی کے دوران خلیج فارس کے اوپر ان طیاروں کو ’دشمن کے حملے‘ کا سامنا کرنا پڑا۔

    لاپتہ پائلٹس میں سے ایک کی باقیات دو ماہ قبل ایران میں دفن کی گئی تھیں۔

    ایرانی ہلالِ احمر نے بھی ایک خط میں مبینہ طور پر گرفتار کیے گئے تین پائلٹس کی صورتحال معلوم کرنے کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔

  12. ایران یمن میں حوثیوں اور عراقی مسلح گروہوں سے ’لاتعلقی‘ کا اظہار کر رہا ہے، اسحاق ڈار

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ایران یمن میں حوثیوں اور عراقی مسلح گروہوں سے ’لاتعلقی‘ کا اظہار کر رہا ہے اور کہا ہے کہ ’ہمارا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘

    جمعے کو صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ان کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اس معاملے پر گفتگو ہوئی ہے اور انھوں نے انھیں بتایا ہے کہ ’ہم ایک دفاعی معاہدے کا حصہ ہیں اور بطور مسلمان ہمیں اس کی پاسداری بھی کرنی ہے اور کریں گے۔‘

    پاکستانی نائب وزیر اعظم کے مطابق عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران رائے دی کہ حوثیوں اور عراقی گروہوں ’پر حملے کرنے کے بجائے ان سے سیاسی رابطے کیے جائیں۔‘

    تاہم انھوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت بننے والی سٹریٹجک پالیٹیکل اینڈ ڈیفینس کمیٹی (ایس پی ڈی سی) کرے گی، جس کا اجلاس آئندہ کچھ روز میں سعودی عرب میں ہوگا۔

    اسحاق ڈار نے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ کم از کم چھ ممالک مکہ معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

    ’لیکن جب تک ہم اس کے سیکریٹیریٹ کو مکمل طور پر فعل نہیں کرتے، میرا نہیں خیال کے ہم کسی کی درخواست کو پورا کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کی دستاویز میں لکھا ہے کہ ’اس کی نوعیت دفاعی ہے اور اس کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں ہے۔‘

    ’دستاویز میں یہ بھی لکھا ہے کہ دیگر ممالک بھی اس میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔‘

  13. انشاء اللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے: سہیل آفریدی

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ انشاء اللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے۔

    ایکس پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ٹویٹ کیا ہے کہ دن ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سےٹانک، ڈی آئی خان کی عوام لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے، ساؤتھ و نارتھ وزیرستان بنوں اور لکی مروت کی عوام لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا، 5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔


  14. پچانوے فیصد معاملات طے پاچکے ہیں، حکومتی مذاکراتی رکن کا دعویٰ

    حکومتی کمیٹی ممبر  نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف نے حکومت کے تمام مطالبات مان لیے۔ 95فیصد معاملات طے پاچکے ہیں۔

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے بتایا ہے کہ تحریک انصاف دہشتگردی کے معاملات پر پوری طرح تعاون کرنے پر رضامند ہے، عمران خان کی رہائی اور ملاقاتوں کے تمام معاملات قانون کے مطابق چلائے جائیں گے۔

    تحریک انصاف نہ ابھی نہ کبھی لانگ مارچ یا کوئی انتشاری طریقہ اختیار کرے گی، دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ریاست کی تمام انتظامی ضروریات کو بھی پورا کیا جائے گا۔

  15. پی ٹی آئی لانگ مارچ کرے گی، نہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگے گی: نوید قمر

    حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور رہنما پیپلزپارٹی نوید قمر نے امید ظاہر کی ہے کہ نہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کرے گی، نہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگے گی۔

    پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شہرام ترکئی نے لانگ مارچ کا خاتمہ پی ٹی آئی کے مطالبات کی منظوری سے مشروط کیا۔

     کہا اب پی ٹی آئی کو سنا جارہا ہے جو کہ اچھی پیش رفت ہے، توقع ہے اتنے گھنٹوں کی بیٹھک سے بہتر فیصلہ سامنے آئے گا۔


  16. حکومت اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار، مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے،

     ذرائع نے بتایا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیا ن جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے، مذاکراتی کمیٹی کے ارکان اسپیکر چیمبر  سے چلے گئے۔ 

    علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ ڈیڈ لاک برقرار ہے، چھوٹی چھوٹی چیزیں تھیں لیکن نتائج تک نہیں پہنچ سکے۔ 

    ان سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ختم ہوگئے ہیں۔

    اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کل دوبارہ ہوں گے۔


  17. حکومتی اور پی ٹی آئی کے درمیان اصل مسئلہ انسداد دہشتگردی کے معاملے پر رُک گیا

    حکومتی اور تحریک انصاف کے درمیان اصل مسئلہ انسداد دہشتگردی کے معاملات پر رک گیا۔

    ذرائع نے بتایا کہ تحریک انصاف دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں ضروری انتظامی اقدامات کرنے سے پیچھے ہٹ رہی ہے، اصل ڈیڈ لاک تحریک انصاف کی طرف سے دہشتگردی سے جڑے انتظامی معاملات پر ہے۔

    تحریک انصاف دہشتگردی کیخلاف اور انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں حکومتی مؤقف سے گریزاں ہیں، اگر دہشتگردی پر  بات آگے نہیں بڑھتی تو باقی کسی چیز  پر بھی آگے نہیں جائے گی۔

  18. لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ رانا ثناء اللہ

    وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کے اگلے دور کا وقت مقرر نہیں ہوا، صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔

    نجی ٹی وی ’جیو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ 

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ پر اختلافات برقرار ہیں۔


  19. ہمارا لانگ مارچ ہوگا اور پرامن ہوگا، بیرسٹر گوہرعلی خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہرعلی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین میں مذاکرات کے اگلے دور پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ ہم چاہتے تھے مذاکرات کامیاب ہوجائیں۔

    ہمارا لانگ مارچ انٹیکٹ ہے، ہمارا لانگ مارچ ہوگا اور پرامن ہوگا، لانگ مارچ کا جواب گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں۔


  20. ہم نے ان کے خدشات سنے، چار مرتبہ ڈرافٹ تبدیل کیا گبا، سینیٹر شیری رحمان

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ پر اختلافات برقرار ہیں۔ 

    حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے ان کے خدشات سنے ہیں، 4 مرتبہ ڈرافٹ تبدیل کیا گیا۔

    دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، لانگ مارچ اور دوسری چیزوں پر انہوں نے ایگریمنٹ سے انکار کردیا ہے۔


مزید خبریں