انڈین میڈیا کے مطابق ہفتے کی شام شمالی کولکتہ کے چورے باغان سروجنین پوجا پنڈال میں بارش، غیر معمولی ہجوم اور داخلی و خارجی راستوں کی تنگی کے باعث صورتحال بے قابو ہوگئی۔ واقعہ 10 روزہ درگا پوجا تہوار کے ساتویں روز پیش آیا۔

کولکتہ پولیس کے مطابق بھگدڑ شام تقریباً 7 بج کر 40 منٹ پر گریش پارک پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع پنڈال کے خارجی دروازے پر مچی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر بارش کے دوران پنڈال میں لوگوں کے غیر معمولی ہجوم کو واقعے کی وجہ قرار دیا۔

پولیس کے مطابق تمام زخمیوں کو ریسکیو کرکے میڈیکل کالج اینڈ اسپتال منتقل کیا گیا۔ امدادی کارروائیوں میں پولیس، فائر بریگیڈ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں اور طبی عملے نے حصہ لیا، جبکہ واقعے کے بعد پنڈال کو زائرین کے لیے بند کردیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق پنڈال کے داخلی اور خارجی راستے انتہائی تنگ تھے اور علاقے میں روشنی کا مناسب انتظام بھی نہیں تھا۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ بارش کے باعث لوگ جلدی اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ داخلی راستے پر طویل قطار لگی ہوئی تھی۔

ان کے مطابق اندھیرے اور رش کے دوران کچھ افراد گر پڑے، جس کے بعد لوگ ایک دوسرے کے اوپر گرتے چلے گئے۔ عینی شاہد نے دعویٰ کیا کہ اس وقت وہاں پولیس اہلکار یا رضاکار موجود نہیں تھے۔ ان کی بیٹی اور نواسی بھی ان افراد میں شامل تھیں جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے میڈیکل کالج اینڈ اسپتال پہنچ کر کہا کہ درگا پوجا کے منتظمین کی جانب سے کیے گئے ایک اعلان کے باعث لوگوں میں بھگدڑ جیسی کیفیت پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے فی خاندان 2 لاکھ بھارتی روپے معاوضے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب آل انڈیا ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بینرجی نے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کولکتہ پولیس، مغربی بنگال پولیس اور ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔