ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اپنی امن تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ اسے قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا گیا ہے۔
ٹرمپ نے ایرانی تجویز مسترد کرنے کا اعلان کیا
ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا تھا کہ انہوں نے ایرانی منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔
ان کا مؤقف تھا کہ ایران شدید دباؤ کا شکار ہے اور اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
تاہم اتوار کو ٹرمپ نے امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کو بتایا کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے مزید بات چیت کریں گے، جس سے سفارتی رابطوں کی بحالی کا امکان برقرار ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ تہران اس وقت ثالثوں کی جانب سے واشنگٹن کا حتمی مؤقف پہنچائے جانے کا انتظار کر رہا ہے، جس کے بعد ایران اس تجویز کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔
امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے معاملے پر تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایران کی معاشی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ حملوں اور پابندیوں کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ایران کا مؤقف: جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی
ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے کہا کہ جنگ ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسی صورتحال قبول نہیں کرے گا جس میں اسے تجارت سے روکا جائے جبکہ غیر ملکی طاقتیں خطے کی اہم آبی گزرگاہوں کو استعمال کرتی رہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امیر حاتمی نے کہا، ’اگر ایران تجارت نہیں کر سکتا، اگر ایران زندہ نہیں رہ سکتا تو کوئی بھی تجارت یا زندگی جاری نہیں رکھ سکے گا۔‘
سعودی عرب بھی تنازع میں مزید شامل
یہ تنازع 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوا تھا اور اس کے بعد لڑائی میں وقفے اور دوبارہ حملوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
اس دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایران کی روایتی فوجی صلاحیتوں اور معیشت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ایران اور اس کے اتحادیوں نے تنازع کو خطے کے دیگر حصوں تک پھیلایا ہے۔ ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ یمن میں حوثی فورسز نے سعودی مفادات پر حملے کیے ہیں۔
رواں ماہ حوثی فورسز کی یمن میں پیش قدمی کے بعد سعودی عرب بھی تنازع میں مزید شامل ہوا ہے۔ اس پیش رفت نے سعودی حمایت یافتہ فورسز پر دباؤ بڑھایا ہے اور بحیرہ احمر کے راستے سعودی تیل کی برآمدات کے لیے بھی خطرات پیدا کیے ہیں۔
حوثیوں نے سعودی عرب کی جانب متعدد مرتبہ حملے کیے ہیں۔
کشیدگی میں اضافے کی ممکنہ علامت کے طور پر ریاض میں والدین کو اتوار کو اسکولوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے جن میں بتایا گیا کہ پورے ہفتے کلاسز آن لائن ہوں گی۔ ان پیغامات میں اس فیصلے کی وجہ نہیں بتائی گئی جبکہ سعودی حکام نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یمن میں مارکیٹ پر حملہ
یمن میں حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارت صحت کے مطابق تعز صوبے میں ایک مارکیٹ میں دکانوں کو نشانہ بنانے والے حملے میں سات افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے بعد میں کہا کہ اس مقام پر حوثیوں کے ایک فوجی کیمپ اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
آبنائے ہرمز میں رکاوٹ سے عالمی تیل کی ترسیل متاثر
نیویارک میں ہونے والے سفارتی رابطوں کے دوران ایران اور سعودی عرب کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق بات چیت بھی ہوئی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آبی گزرگاہ خطے اور دنیا کے لیے توانائی کی فراہمی کے حوالے سے کتنی اہم ہے۔
عباس عراقچی نے جمعے کو کہا تھا کہ ایران کی تجویز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں لڑائی روکنے کے لیے سات روزہ عمل شروع کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن اس تجویز کو قبول کرتا ہے تو فریقین باہمی طور پر طے شدہ معاملات پر وسیع مذاکرات کی طرف بڑھ سکتے ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل ہو سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کو امریکا کے اہم مقاصد میں شامل کیا ہے۔ ان کے مطابق ایک اور مقصد تہران کی اپنے ہمسایہ ممالک پر حملے کی صلاحیت محدود کرنا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ ٹرمپ نے ایرانی تجویز اس لیے مسترد کی کیونکہ اس میں فوری طور پر پابندیاں ختم کرنے اور منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ایران جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے تیار، پزشکیان
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران اپنے جوہری پروگرام اور دیگر معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم وہ دباؤ یا زبردستی قبول نہیں کرے گا۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن دباؤ، دھمکیوں اور حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران پہلے ہی اس بات پر رضامند ہو چکا ہے کہ اسے جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنے چاہئیں۔















