انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں پولیس مقابلوں کے دوران 1,696 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے 977 ہلاکتیں پنجاب میں کاؤنٹر کرائم ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے 707 مقابلوں میں ہوئیں۔
حالیہ واقعات میں ملتان کے ٹھیکیدار توقیر نذیر اور اسلام آباد میں لائبہ اعجاز کیس کے مرکزی ملزم محمد نعمان کی ہلاکتوں نے بھی پولیس کارروائیوں کے طریقۂ کار اور ملزمان کو عدالت میں اپنا دفاع کرنے کا موقع دینے سے متعلق بحث کو جنم دیا ہے۔
توقیر نذیر کو ایک کم عمر لڑکے وسیم عباس کو گاڑی سے ٹکر مارنے کے الزام میں پولیس تحویل میں لیا گیا تھا۔ سی سی ڈی کے مطابق وہ پولیس تحویل سے فرار ہوا اور بعد ازاں بہاولپور میں فائرنگ کے ایک واقعے میں مارا گیا۔
واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق گاڑی کا ٹائر پنکچر ہونے کے بعد توقیر نذیر کو نیچے اتارا گیا، جس کے بعد تین مسلح افراد نے حملہ کیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ توقیر نذیر ہتھکڑی سمیت حملہ آوروں کی جانب بھاگا، جبکہ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں لائبہ اعجاز کیس کے مرکزی ملزم محمد نعمان کو پولیس کے مطابق برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ موٹر سائیکل سوار افراد نے فائرنگ کر دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔
ان واقعات کے تناظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ پولیس مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کیسے یقینی بنائی جائیں اور یہ کیسے طے ہو کہ کسی کارروائی میں قانون کے تقاضے پورے کیے گئے یا نہیں۔
آئین کیا کہتا ہے؟
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 10-اے ہر شخص کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی کارروائی کا حق فراہم کرتا ہے۔
قانونی اصولوں کے مطابق کسی شخص پر جرم کا الزام ثابت ہونے تک اسے عدالت میں اپنا دفاع کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ جرم کی نوعیت کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو، کسی ملزم کو سزا دینے کا اختیار عدالت کے پاس ہے، جبکہ پولیس کی ذمہ داری ملزم کو قانون کے مطابق گرفتار کرنا، شواہد جمع کرنا اور انہیں عدالت میں پیش کرنا ہے۔
پولیس مقابلوں کو فوری انصاف کیوں سمجھا جاتا ہے؟
پاکستان میں عدالتی نظام کو درپیش مسائل بھی پولیس مقابلوں کے بارے میں عوامی رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مقدمات میں تاخیر، کمزور تفتیش، ناقص شواہد اور گواہوں کے تحفظ کے مسائل کے باعث بعض سنگین مقدمات میں بھی ملزمان کو سزا نہیں ہو پاتی۔
دوسری جانب طاقتور ملزمان کے مقدمات طویل ہونے اور کمزور ملزمان کے طویل عرصے تک زیرِ حراست رہنے سے انصاف کی فراہمی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ایسے حالات میں بعض شہری پولیس مقابلوں کو فوری انصاف سمجھنے لگتے ہیں۔
تاہم ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے نزدیک اصل مسئلہ یہ ہے کہ انصاف کا عمل شفاف، مؤثر اور بروقت ہونا چاہیے، تاکہ کسی ملزم کی ہلاکت کو عدالتی فیصلے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔
پولیس مقابلوں کے ہر واقعے کو بلا تحقیق جعلی قرار دینا درست نہیں، لیکن ہر واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ بالخصوص پولیس تحویل میں موجود کسی ملزم کی ہلاکت کی صورت میں یہ جاننا اہم ہے کہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا اور کیا متعلقہ اہلکاروں نے قانونی تقاضے پورے کیے۔
پاکستان میں پولیس مقابلوں کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار اور حالیہ واقعات نے ایک بنیادی سوال کو پھر نمایاں کر دیا ہے: کیا ملک کا نظامِ انصاف ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے، شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری مؤثر طور پر پوری کر رہا ہے؟







