امریکی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یوکرینی صدر نے کہا کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے بعد ماسکو نے بھی مذاکرات کی بحالی پر اصولی آمادگی ظاہر کی ہے، اس پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے تینوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ عمل حل تلاش کیا جاسکے۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین لڑائی روکنے، توانائی کی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ بند کرنے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقدامات سمیت مختلف تجاویز کی حمایت کرتا ہے، ایسے اقدامات جنگ کی شدت کم کرنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
یوکرینی صدر نے مذاکراتی عمل میں یورپی ممالک کو بھی شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی، جنگ کے خاتمے اور مستقبل کے سیکیورٹی انتظامات سے متعلق فیصلوں میں یورپی شراکت داروں کی شرکت اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس تنازع کے اثرات صرف روس اور یوکرین تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والی ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی۔ اس دوران یوکرین تنازع کے ممکنہ حل، جنگ کے بعد روس اور یوکرین کے لیے سیکیورٹی نظام تشکیل دینے اور مستقبل میں خطے کے استحکام سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
روسی عہدیدار کے مطابق ملاقات میں روس اور امریکا کے درمیان ڈیزل معاہدے پر عمل درآمد کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ تاہم دستیاب بیان میں اس معاہدے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطوں کی بحالی کی یہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب تنازع کے مستقل حل، ممکنہ جنگ بندی اور مستقبل کے سیکیورٹی انتظامات پر مختلف تجاویز زیرِ بحث ہیں۔ زیلنسکی کی جانب سے نومبر کے اوائل میں سہ فریقی مذاکرات کی تجویز ایک ممکنہ سفارتی راستے کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم مذاکرات کی حتمی تاریخ، مقام اور شرائط کے بارے میں کسی باضابطہ اتفاق کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اگر امریکا، روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے تو جنگ بندی، توانائی کی تنصیبات کا تحفظ، انسانی ہمدردی کے اقدامات اور جنگ کے بعد سیکیورٹی نظام اہم موضوعات بن سکتے ہیں۔ تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے کسی پیش رفت کا انحصار تینوں فریقوں کے مؤقف اور مجوزہ شرائط پر اتفاق رائے پر ہوگا۔







