
بلاگ

تخت، تاج اور اختیار؛ ووٹ سے گورنر راج تک
پاکستان کی سیاست میں اقتدار کی کرسی کبھی صرف ایک کرسی نہیں رہی۔ کبھی اسے عوامی ووٹ کا حق کہا گیا، کبھی وفاق کی ضرورت اور کبھی امن کے قیام کا تقاضا۔ بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ جب معاملات قابو سے باہر ہونے لگیں تو باگ ڈور مضبوط ہاتھوں میں دے دینی چاہیے۔ سو، اب باگ ڈور سنبھالنے کا انتظام بھی ہو گیا، امن قائم کرنے کا عزم بھی سامنے آ گیا۔ مگر پاکستان کی تاریخ میں اختیار کی یہ منتقلی کوئی نئی کہانی نہیں۔

جنتر منتر، بھارت میں جمہوریت کی تجربہ گاہ، مودی کتنی مشکل میں ہیں؟

مذاکرات کی ناکامی، لانگ مارچ کا آغاز: کیا خیبر پختون خوا میں گورنر راج لگ سکتا ہے؟

حکومت، اپوزیشن مذاکرات: پاکستانی سیاست کیا رخ اختیار کرے گی؟

جمہوریت اور عوامی مسائل: فلسفہ اور حقیقت کا فاصلہ

کرکٹ ختم، ایکشن فلم شروع

دو جہاز، دو وزرائے اعلیٰ اور ’خریدا ہے بھئی‘ کی حکمتِ عملی

رہائی نہیں صرف دوائی: پی ٹی آئی قیادت کا امتحان شروع، کیا کامیاب ہوپائے گی؟

اسمبلیوں میں تعداد کم مگر سڑکوں پر آواز بلند

جتھہ نہیں، سیاسی جماعت: حافظ نعیم الرحمان کا امتحان اور اسلام آباد پر دوہرا دباؤ

لیوی، لانگ مارچ اور ایک حافظ جو تھکنے کا نام نہیں لے رہا

کیا پاکستان میں "شیم ڈیموکریسی" ایسے ہی چلتی رہے گی؟

رضیہ خود تو بڑی شریف ہے لیکن۔۔۔

سہیل آفریدی کے دورے کی دھول میں جہاز کی ’رسیدیں‘ غائب

عمران خان سے سہیل آفریدی تک۔ تماشہ وہی کردار بدل گیا

پیٹرول، پابندیاں اور عوام کا صبر

جہاز، جہازی اور ہم زمین والے

خواب یا حق؟

پٹرول، احتجاج اور سیاسی تماشا

نئے صوبوں کی بحث، کیا سندھ کی تقسیم ممکن ہے؟

پیٹرول مہنگا ہوتا رہا، ہم چپ چاپ سہتے رہے

بلال کی ’اذاں‘ طاقتور ہے!

محسن صاحب! نظام ٹوٹا ہے تو نقشہ کیوں کاٹا جا رہا ہے؟

پانی کا بحران؛ خطرہ دہلیز پر، مگر ہم اب بھی بے خبر





